رسائی کے لنکس

logo-print

ضمنی انتخاب کا انوکھا امیدوار، نہ پارٹی ہے نہ کوئی کارکن


ٹوتھ برش ان کا انتخابی نشان ہے۔ اس لئے انہوں نے عوام میں اپنی پہچان بنانے کا سب سے سہل طریقہ یہی نکالا ہے کہ لوگوں میں ٹوتھ برش اور پیسٹ تقسیم کئے۔ وہ کہتے ہیں ’جس طرح ٹوتھ برش دانت صاف کرتا ہے، اسی طرح منتخب ہوکر حلقے کی گندگی صاف کردوں گا‘

کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 246 پر انتخابات کے انعقاد میں اب صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔ جیسے جیسے پولنگ کا دن قریب آ رہا ہے، نت نئی خبریں جنم لے رہی ہیں۔ جمعرات کو بھی یہاں سے کئی اہم اور بڑی خبریں سامنے آئیں، جن کا ذکر ہم اگلی سطروں میں کریں گے۔ لیکن پہلے ملاخطہ کیجئے یہ دلچسپ خبر۔

کراچی میں قومی اسمبلی کی صرف ایک نشست پر ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔ لیکن اس سیٹ پر 15امیدوار ایک دوسرے کے مقابل ہیں جن میں سے 11 امیدواروں کا تعلق کسی بھی جماعت سے نہیں، یعنی وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

ان امیدواروں کے نام یہ ہیں: اسلم شاہ، اشرف علی قریشی، محفوظ یار خان، پرویز علی، حسن پرویز، سید اظہرالحسن، سید عثمان علی، سیما زرین، عبدالستار انصاری ، محمد ایوب خان اور منعم ظفر۔

انوکھا امیدوار: اشرف علی قریشی ایڈووکیٹ
ان امیدواروں میں ایک امیدوار ایسا بھی ہے جو سب سے منفرد اور انوکھا ہے۔ یہ ہیں اشرف علی قریشی ایڈووکیٹ۔ وہ لیاقت آباد نمبر چار کے رہنے والے ہیں اور پچھلے ہفتے کریم آباد پر عوام کے درمیان ایک ٹوتھ برش کے ذریعے اپنی انتخابی مہم چلاتے ہوئے نظر آئے۔

ٹوتھ برش ان کا انتخابی نشان ہے۔ اس لئے، انہوں نے عوام میں اپنی پہچان بنانے کا سب سے سہل طریقہ یہی نکلا کہ لوگوں میں ٹوتھ برش اور پیسٹ تقسیم کئے۔ تقسیم کے دوران انہوں نے اپنا یہ مختصر پیغام بھی لوگوں تک پہنچایا کہ ’جس طرح ٹوتھ برش دانت صاف کرتا ہے، اسی طرح منتخب ہوکر حلقے کی گندگی صاف کر دوں گا۔‘

اشرف علی کا تعلق کسی جماعت سے نہیں۔ نہی ان کے پاس کوئی ایک بھی پارٹی کارکن ہے۔ وہ اس راہ میں تن تنہا ہیں، جبکہ لیاقت آباد چار نمبر کے جس علاقے، گلی اور محلے میں رہتے ہیں وہاں بھی انہیں ایک دو لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے نے اشرف علی کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی دستاویزات میں درج پتے پر پہنچ کر انہیں پورے علاقے میں ڈھونڈا اور درجنوں لوگوں سے ان سے متعلق دریافت کیا۔ لیکن، گلی در گلی پھرنے کے باوجود صرف دو لوگوں نے انہیں نام پہچانا اور بتایا کہ وہ کافی عرصہ پہلے یہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔ ہوسکتا ہے شناختی کارڈ پر درج انہوں نے اپنا پتہ تبدیل نہ کرایا ہو۔

اشرف علی کے حوالے سے نجی ٹی وی جیو نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ وہ صرف اپنے اعتماد کے سہارے خود اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں، جبکہ ان کی مالی حالت ایسی ہے کہ انتخابی فیس بھی انہوں نے اپنی موٹرسائیکل فروخت کرکے ادا کی ہے۔

ایک اور دلچسپ پہلو
انتخابی امیدواروں میں سے بیشتر امیدوار ایسے ہیں جن کا تعلق اس حلقے سے ہے ہی نہیں۔حلقے کے ریٹرنگ افسرسید ندیم حیدر کی جاری کردہ معلومات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار کنور نوید تو کراچی سے ہی تعلق نہیں رکھتے۔ وہ حیدرآباد سے ہیں۔

اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے عمران اسماعیل کا تعلق کراچی کے انتہائی پوش علاقے ڈیفنس سے ہے۔ جماعت اسلامی کے امیدوار راشدنسیم نارتھ ناظم آباد سے ہیں۔ چھ امیدوار ایف بی ایریا، ایک لیاقت آباد، ایک گزری، ایک کلفٹن، ایک سول لائنز، ایک ناظم آباد اور ایک کا تعلق گلستان جوہر سے ہے۔

تحریک انصاف کو شاہراہ پاکستان پر جلسے کی اجازت مل گئی
پاکستان تحریک انصاف کو آئندہ اتوار کے روز شاہراہ پاکستان پر جلسے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس سے قبل پی ٹی آئی یہ جلسہ عزیز آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی رہائش گاہ کے قریب واقع جناح گراوٴنڈ میں کرنا چاہتی تھی، مگر پارٹی سربراہ عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ’یہ جگہ چھوٹی پڑجائے گی۔‘

یوں 19اپریل کا جلسہ جناح گراوٴنڈ کے بجائے شاہراہ پاکستان پر رکھنے کا پروگرام ترتیب دیا گیا، جس کی جمعرات کو ڈپٹی کمشنر سینٹرل کراچی نے باقاعدہ اجازت دے دی۔

پارٹی کے اہم منتظمین کا کہنا ہے کہ جلسے کے موقع پر اسٹیج عائشہ منزل پر بنایا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان شام 6 بجے جلسے سے خطاب کریں گے۔

پاکستان کی ایک اور اہم سیاسی پارٹی ’جماعت اسلامی‘ بھی گزشتہ اتوار کو شاہراہ پاکستان پر ہی جلسہ کرچکی ہے۔

الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق جاری کردیا
الیکشن کمیشن نے جمعرات کو این اے 246 کے حوالے سے ضابطہ اخلاق بھی جاری کر دیا ہے۔اس کے مطابق انتخابی مہم 21 اپریل کی رات 12 بجے ختم ہو جائے گی۔اس کے بعد اگر کوئی بھی امیدوار انتخابی مہم چلاتا پایا گیا تو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پراسے 6 ماہ قید اور جرمانے کی سزاد دیا جائے گی۔

XS
SM
MD
LG