رسائی کے لنکس

logo-print

روزگار حاصل کرنے میں کیمبرج یونیورسٹی کے طلبہ سب سے آگے


دنیا بھر میں جلد روزگار پانے والے طلبہ پیدا کرنے والی یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں کیمبرج یونیورسٹی کا نام سب سے اوپر ہے۔

ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا بھرکی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل گریجویٹس طلبہ کے مقابلے میں 'کمیبرج یونیورسٹی' کے طلبہ روزگار حاصل کرنے میں سب سے آگے ہیں۔

امریکی یونیورسٹیاں 'ہارورڈ'، اور 'ییل' اس فہرست میں بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں جہاں کے فارغ التحصیل گریجویٹس دیگر جامعات کے طلبہ کے مقابلے میں روزگار کے زیادہ مواقع حاصل کرتے ہیں۔

روزگار حاصل کرنے کے لیے دنیا کی کونسی یونیورسٹیوں کے نام مستند خیال کئےجاتے ہیں، اس بارے میں تازہ 'گلوبل ایمپلائمنٹ یونیورسٹی سروے2014 ' سے پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور جلد روزگار پانے والے طلبہ پیدا کرنے والی یونیورسٹیوں کی رینکنگ میں کیمبرج یونیورسٹی کا نام سب سے اوپر ہے جبکہ برطانیہ کی قدیم یونیورسٹی 'آکسفورڈ' رواں برس 'گلوبل لیگ ٹیبل' پر پہلے سے چوتھے نمبر پر آگئی ہے۔

'لیگ ٹیبل' پر سب سے زیادہ نمائندگی امریکی یونیورسٹیوں نے حاصل کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حصولِ تعلیم کےبعد جلد ملازمت پانے والے طلبہ پیدا کرنےکے اعتبار سے امریکی یونیورسٹیاں دنیا بھر میں سر فہرست ہیں۔ ٹیبل پر کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پانچویں، میساچوسٹس چھٹے، اسٹینفورڈ ساتویں، پرسٹن آٹھوی/کولمبیا 11 یونیورسٹی آف کیلی فورنیا بارکلے 12 جان ہاپکنزیونیورسٹی 19 اور یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی درجہ بندی 13 نمبر پر کی گئی ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ کام کرنے والے طلبہ یا پیداورای گریجویٹس پیدا کرنے والی قوم کے اعتبار سے کمپنیوں نے مجموعی طور پر برطانوی قوم کو تیسری بہترین قوم قرار دیا ہے جبکہ امریکی اور جرمن قوم پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔

انسانی وسائل کے مشاورتی ادارہ 'ایمرجنگ' کے اس سروے میں آجروں سے روزگار کے اعتبار سے یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ روزگار کے حوالے سے دنیا کی کونسی جامعات کے گریجویٹس طلبہ سب سے زیادہ خوش نصیب خیال کئے جاتے ہیں۔

آجروں کے اس بڑے سروے سے پتا چلتا ہے کہ ایشیائی یونیورسٹیوں کی نمائندگی میں جاپان کی 'ٹوکیو یونیورسٹی' سر فہرست ہے جو 10 ویں نمبر پر ہے۔ اس کے ساتھ 'ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی' کو 16 ویں نمبر پر شامل کیا گیا ہے۔

بھارت سے تین یونیورسٹیاں، 'انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی' 22 ویں، انڈین اسکول آف بزنس 53 ویں، اور انڈین انسٹیٹیوٹ آف بزنس 149 ویں نمبر پر ہیں۔

سروے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ 'گلوبل لیگ ٹیبل' پر ایشیائی جامعات تیزی سے جگہ حاصل کر رہی ہیں اور پچھلے چار برسوں میں ایشیائی یونیورسٹیوں کا تناسب دوگنا ہو گیا ہے۔ رواں برس ایشیائی جامعات نے مجموعی طور پر لیگ ٹیبل پر 20 فیصد نمائندگی حاصل کی ہے۔

دنیا کے 20 ممالک کے 4,500 آجروں کے انٹرویو پر مشتمل سروے میں آجروں نے بتایا کہ ان کے خیال میں دنیا بھر میں جو یونیورسٹیاں سب سے زیادہ کام کرنے والے طلبہ یا پیداواری گریجویٹس پیدا کرتی ہیں وہی سب سے بہتر ہیں۔

عالمی روزگار سروے رپورٹ کے مطابق پیداواری گریجویٹس پیدا کرنے والی ٹاپ 150 یونیورسٹیوں کی درجہ بندی میں برطانیہ کی پانچ جامعات ٹاپ 20 میں شامل ہیں جن میں یونیورسٹی کالج لندن کی درجہ بندی ،14 ایمپیریل کالج لندن 15 اور ایڈنبرگ یونیورسٹی 18 نمبر پر ہے۔

علاوہ ازیں مانچسٹر یونیورسٹی اس فہرست میں 25 ویں، کنگ کالج لندن35 ویں، لندن اسکول آف اکنامکس 44 ویں، برمنگھم یونیورسٹی 60 ویں اور نوٹنگھم یونیورسٹی کو 63 واں نمبرملا ہے۔

XS
SM
MD
LG