رسائی کے لنکس

logo-print

کینیڈا: ایک سے زیادہ شادیوں پر پابندی زیرِ غور


مجوزہ قانون میں زبردستی کی جانے والی شادیوں پر پابندی اور شادی کے لیے کم از کم 16 سال کی عمر لازمی قرار دینے کی شقیں بھی شامل ہیں۔

کینیڈا کی حکومت ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے والے غیر ملکی مردوں کی امیگریشن پر پابندی عائد کرنے پہ غور کر رہی ہے۔

کینیڈا کے وزیر برائے امیگریشن کرس ایلگزینڈر نے ایک سے زیادہ شادیوں کو "وحشیانہ عمل" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے افراد کو کینیڈا کی شہریت دینے پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے۔

جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کینیڈین وزیر نے کہا ہے کہ "بہیمانہ ثقافتی روایات کے امتناع کا مجوزہ قانون" منظور ہونے سے دنیا پر واضح ہوگا کہ کم عمری اور زبردستی کی شادیوں، غیرت کے نام پر تشدد اور کثرتِ ازدواج کو کینیڈا میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

کینیڈین پارلیمان کی جانب سے مجوزہ قانون منظور کیے جانے کی صورت میں حکام کو اختیار ہوگا کہ وہ بغیر کسی عدالت کا رروائی کے کینیڈا میں عارضی یا مستقل طور پر مقیم ایسے افراد کو ملک بدر کرسکیں گے جن کی کینیڈا میں ایک سے زیادہ بیویاں ہوں گی۔

اپنے بیان میں کرس ایلگزینڈر نے کہا ہے کہ مجوزہ قانون سازی سے ایسے کم از کم سیکڑوں افراد متاثر ہوں گے جنہوں نے کینیڈین امیگریشن کی درخواست دے رکھی ہے لیکن انہوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کر رکھی ہیں۔

مجوزہ قانون میں زبردستی کی جانے والی شادیوں پر پابندی اور شادی کے لیے کم از کم 16 سال کی عمر لازمی قرار دینے کی شقیں بھی شامل ہیں۔

مجوزہ قانون بدھ کو کینیڈین سینیٹ کے روبرو پیش کیا جاچکا ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ کب تک منظور ہو کر نافذ ہوجائے گا۔

XS
SM
MD
LG