رسائی کے لنکس

logo-print

کینیڈا: پارلیمنٹ میں فائرنگ، حملہ آور اور فوجی اہلکار ہلاک


عینی شاہدین کے مطابق ’قومی یادگار‘ پر تعینات ایک فوجی اہلکار کو قتل کرنے کے بعد مسلح شخص پارلیمان کی عمارت میں جا گھسا جہاں بعد ازاں وہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔

اوٹاوا میں، کینیڈا کے پارلیمان کی عمارات کے اندر درجنوں گولیاں چلی ہیں، جس سے قبل کم از کم ایک مسلح شخص نے قریب ہی واقع ’نیشنل وار میموریل‘ کی حفاظت پر مامور ایک فوجی کو گولیاں چلا کر ہلاک کیا۔

پولیس نے بتایا ہے کہ پارلیمان کی مرکزی عمارت میں ایک مسلح شخص کو ہلاک کیا گیا ہے۔

کینیڈا کی انتہائی مسلح پولیس، جسے بکتربند گاڑیوں کی مدد حاصل ہے، ملک کے دارالحکومت کی پرانی عمارات کا محاصرہ کر رکھا ہے، جب کہ پولیس نے بتایا ہے کہ ایک یا ایک سے زیادہ مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

اوٹاوا پولیس نے بتایا ہے کہ ایک قریبی شاپنگ مال میں بھی گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ شوٹنگ کے اس واقعے کے مقام سے باہر جا چکے ہیں، اور یہ کہ، وہ ’محفوظ‘ ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ لڑائی کی قومی یادگار پر گولیاں چلانے کے بعد، یہ مسلح شخص پارلیمان کی عمارات کی سمت بڑھا، جس کی اوٹ میں وہ چھپا ہوا ہے؛ جب کہ کئی ایک اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پارلیمان کے صدر دفاتر میں گولیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

کینیڈین براڈکاسٹنگ کمپنی (سی بی سی) نے بتایا ہے کہ پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پارلیمان کی مرکزی عمارت میں ایک مسلح شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

زخمی ہونے والے فوجی کو اسپتال پہنچایا گیا ہے۔ اُن کی حالت کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی گئی۔

شوٹنگ کے اس واقعے سے دو ہی روز قبل، مونٹریال میں کار میں سوار ایک شخص، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس نے حال ہی میں اسلام قبول کیا تھا، کینیڈا کے دو فوجیوں پر گولیاں چلادیں، جس میں سے ایک ہلاک ہوگیا۔

عینی شاہدین کے مطابق، عین ممکن ہے کہ گولیاں چلانے والے اس مسلح شخص کا کوئی دوسرا فرد بھی ساتھ دے رہا ہو۔ دونوں نے چہرے اور سر کو ایک ہی قسم کے گلوبند سے ڈھانپہ ہوا ہے۔

جائے واردات پر موجود نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ جائے واردات پر پولیس اس طرح سے متحرک ہے جیسے اُسے اس بات کا علم ہو کہ مسلح افراد کی تعداد ایک سے زیادہ ہے۔

XS
SM
MD
LG