رسائی کے لنکس

logo-print

کینیڈین شہری کو چین میں منشیات کی تجارت کے جرم میں سزائے موت


چین کے شہر ڈیلین کی عدالت۔ فائل فوٹو

چین اور کینڈا کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں اور خیال ہے کہ اس واقعے سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

چین کی ایک عدالت نے ایک کینیڈین شہری رابرٹ لوئڈ شیلین برگ کو منشیات سمگل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنا دی ہے۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو اس جرم میں 15 سال پہلے دی گئی سزا بہت نرم تھی اور یہ در حقیقت سزائے موت کا حقدار تھا۔ یہ فیصلہ چین کے شمال مشرقی شہر ڈیلین کی عدالت نے دیا ہے۔

شیلین برگ کو قبل اذیں 2014 میں گرفتار کر کے 15 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ تاہم استغاثہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس جرم کیلئے دی جانے والی سزا بہت نرم ہے۔ عدالت نے مقدمے کی کارروائی کے بعد قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔

شیلین برگ نے الزامات کی صحت سے انکار کر دیا ہے اور اُس کے وکیل ژانگ ڈونگ شوو نے نیوز ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ وہ اس سزا کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل داخل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

چین اور کینیڈا کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں اور خیال ہے کہ اس واقعے سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ کچھ حلقے چین کے اس اقدام کو کینیڈا میں چین کی ایک ٹیک کمپنی کی اعلیٰ عہدیدار مینگ وانژو کی گرفتاری کے خلاف رد عمل قرار دے رہے ہیں۔

مینگ وانژو چینی ٹیک کمپنی’ہواوے‘ کی چیف فنانشل افسر تھیں اور اُنہیں امریکہ کی ایما پر یکم دسمبر کو وینکوور میں گرفتار کیا گیا تھا۔ امریکہ نے اُن پر ایران کے خلاف عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اُنہیں امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ اس گرفتاری کے بعد چین میں قومی سلامتی کے الزامات پر دو کنیڈین شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

حالیہ برسوں میں چین میں برطانیہ، جاپان اور فلپائن سمیت متعدد ممالک کے شہریوں کو منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں سزائے موت دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG