رسائی کے لنکس

logo-print

کیوبیک مسجد حملہ، کینیڈین طالب علم پر الزام عائد


پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم ٹروڈو کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں متاثر ہونے والوں کو ان کے مذہب کی بنا پر نشانہ بنایا گیا۔

کینیڈا کے شہر کیوبیک میں پولیس نے ایک مسجد پر مہلک حملے کے بعد گرفتار کیے گئے ایک فرانسیسی نژاد کینیڈین شہری کو قتل اور اقدام قتل کا ملزم نامزد کیا ہے۔

اتوار کو اسلامک کلچرل سینٹر پر ہونے والی فائرنگ میں چھ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے تھے۔ وزیراعظم جسٹسن ٹروڈو نے اسے "مسلمانوں پر دہشت گرد حملہ" قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی تھی۔

پیر کی شام پولیس نے 27 سالہ یونیورسٹی طالب علم الیگزینڈر بیسوناں پر قتل کے چھ اور اقدام قتل کے پانچ الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا۔

فائرنگ کے وقت کلچرل سینٹر میں 50 سے زائد افراد موجود تھے۔ پولیس کی ایک ترجمان کے مطابق مرنے والوں کی عمریں 35 سے 70 سال کے درمیان تھیں۔ آٹھ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

حراست میں لیے گئے دوسرے مشتبہ شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ واقعے کا گواہ ہے۔

تاحال پولیس نے اس واقعے کے محرکات کے بارے میں وضاحت نہیں کی اور یہ بھی نہیں بتایا کہ آیا اس میں کوئی اور شخص بھی ملوث ہے یا نہیں۔

رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس کے سپریٹنڈنٹ مارٹن پلانٹے کا کہنا تھا کہ "فی الوقت تحقیقات کا دائرہ مقامی سطح تک محدود ہے۔" ان کے بقول پولیس مزید معلومات اور شواہد جمع کر کے اس پر پیش رفت کرے گی۔"

مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے وزیراعظم قانون سازوں کے ہمراہ پارلیمان میں خاموش کھڑے ہیں
مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے وزیراعظم قانون سازوں کے ہمراہ پارلیمان میں خاموش کھڑے ہیں

پیر کو ہی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم ٹروڈو کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں متاثر ہونے والوں کو ان کے مذہب کی بنا پر نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے کینیڈا میں مقیم مسلمانوں سے کہا کہ "ہم آپ کے ساتھ ہیں، یہ جان رکھیں کہ ہم آپ کی قدر کرتے ہیں۔۔۔یہ آپ کا گھر ہے۔"

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروڈو کو فون کر کے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان شان سپائسر نے صحافیوں کو بتایا کہ کیوبک میں ہونے فائرنگ "ہمارے لیے ایک تکلیف دہ یاد دہانی ہے کہ کیوں ہمیں چوکس رہنے کی ضرورت ہے، اور ہماری قومی سلامتی اور تحفظ کے تناظر میں کیوں صدر ٹرمپ حفظ ماتقدم کے طور پر اقدام کر رہے ہیں بجائے اس کے لیے ردعمل کے طور پر کچھ کیا جائے۔"

XS
SM
MD
LG