رسائی کے لنکس

logo-print

کیپٹل ہل، حملہ آور نے کار دو پولیس افسران پر چڑھا دی، پولیس افسر اور حملہ آور ہلاک


امریکی نیشنل گارڈ کے جوان کیپیٹل ہل پر پیش آنے والے واقعے کے بعد سڑکوں پر پیٹرولنگ کر رہے ہیں۔ فوٹو رائٹرز

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل ہل کی عمارت کے باہر جمعے کو ایک کار کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ سے ٹکرانے کے واقعے میں ایک پولیس اہلکار اور مشتبہ حملہ آور کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

کیپیٹل پولیس کی عبوری سربراہ یوگا ناندا پٹ مین نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور کار ٹکرانے کے بعد ایک ہاتھ میں خنجر لے کر پولیس آفیسرز کی طرف دوڑ پڑا اور اس نے ایک آفیسر پر خنجر سے وار کیا۔ پولیس کی طرف سے فائرنگ کی گئی، جس سے حملہ آور زخمی ہو گیا۔ اسے ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا۔

ہلاک ہونے والے پولیس آفیسر کی شناخت ولئیم بلی ایونز کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ 18سال سے امریکی کیپیٹل پولیس کے فرسٹ ریسپونڈر یونٹ کا حصہ تھا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملہ آور کی شناخت 25 برس کے نوحا گرین کے نام سے کی ہے۔

تفتیش کار ان کے ماضی کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ حملہ آور کی ذہنی صحت کا اندازہ لگایا جا سکے اور اس حملے کے مقاصد کا تعین ہو سکے۔

تفتیش کار اس کے آن لائن اکاؤنٹس کو دیکھنے کے لیے وارنٹ حاصل کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق کیپیٹل پولیس کے قائم مقام چیف یوگیناڈا پٹمین نے بتایا کہ حملہ آور پولیس کے ریکارڈ میں نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حملے سے ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ کیپیٹل ہل کی عمارت اور اس کی حفاظت کرنے والے ممکنہ تشدد کے نشانے پر ہیں۔

مبینہ حملہ آور کے حال ہی میں آن لائن اکاؤنٹس میں پوسٹ کیے گئے پیغامات کے مطابق وہ اپنے آپ کو امریکہ میں مسلمانوں کے گروہ نیشن آف اسلام اور اس کے بانی کا پیروکار بتاتا تھا۔ نوحا کے مطابق انہوں نے مشکل وقت میں اپنے مذہب کی جانب توجہ دی تھی۔ یہ پیغامات بعد میں سوشل میڈیا سے ہٹا دئے گئے تھے۔ ان پیغامات کی کھوج آن لائن ایس آئی ٹی ای گروپ نے لگائی جو آن لائن اقدامات کی پیروی کرتا ہے۔

کیپیٹل پولیس کی عبوری سربراہ کا کہنا تھا کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے، ان کے بقول، یو ایس کیپیٹل پولیس چھ جنوری کے واقعات کے بعد سے ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور آج ہونے والا واقعہ بھی اسی کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کیپیٹل پولیس کو اپنی نیک خواہشات میں یاد رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کے مقاصد کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

اس سے قبل کیپیٹل پولیس نے بتایا تھا کہ جمعے کے روز ایک حملہ آور نے کیپیٹل ہل کے قریب ایک سیکیورٹی ناکے سے کار ٹکرا دی تھی۔ کار ٹکرانے کے بعد، چاقو سے لیس حملہ آور کار سے باہر نکلا تھا۔اور پولیس کی گولی لگنے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے کے مقامی اہلکاروں نے بتایا کہ حملہ آور کو ہسپتال پہنچایا گیا تھا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ زخمی پولیس آفیسرز میں سے ایک کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ جبکہ دوسرے کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

یہ واقعہ کیپیٹل ہل کے باہرکانسٹی ٹیوشن ایونیو پر امریکی سینیٹ کی عمارت کی ایک جانب سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق، واشنگٹن کی میٹرو پولیٹین پولیس کا محکمہ ایف بی آئی کے واشنگٹن فیلڈ آفس کے ساتھ مل کر واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

کیپیٹل ہل کی عمارت کے گرد تین مہینے قبل ہونے والے اس حملے کے بعد سیکیورٹی کے خصوصی جنگلے نصب کئے گئے تھے، جب سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں نے اس وقت کیپیٹل کی عمارت پر چڑھائی کر دی تھی، جب وہاں موجودہ صدر جو بائیڈن کی بطور امریکی صدر کامیابی کی توثیق کے لیے اجلاس ہو رہا تھا۔

کیپیٹل ہل کی عمارت کے گرد سیکیورٹی کے بیرونی حصار کو اسی ہفتے ہٹایا گیا تھا، تاہم سیکیورٹی کے لئے حفاظتی جنگلوں کا اندرونی حصار ابھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے عہدیداروں نے بتایا کہ مشتبہ شخص کو گولی لگ گئی تھی جس کے بعد اسے نازک حالت میں ہسپتال لے جایا گیا۔ زخمی ہونے والے ایک پولیس افسر کو پولیس کار کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا جب کہ دوسرے کو ہنگامی طبی امداد دینے والوں نے ہسپتال پہنچایا۔

اے پی کا کہنا ہے کہ عہدیداروں نے نام نہ بتانے کی شرط پر خبر رساں ادارے سے بات کی ہے کیونکہ وہ اس بارے میں بات چیت نہیں کر سکتے۔

اس واقعہ کے بعد کیپیٹل ہل کے عمارت میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے اور عملے کو عمارت کے باہر یا اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ کی کیتھرین جپسن کے مطابق، اس وقت امریکی نیشنل گارڈ کے بائیس سو سے کم جوان کیپیٹل ہل کو سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔

اس سیکیورٹی چیک پوائنٹ سے عام دنوں میں عملہ اور سینیٹر گزرتے ہیں۔ تاہم آج کل کانگریس چھٹی پر ہے۔

جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، اس سے کچھ دیر پہلے ہی صدر جو بائیڈن، وائٹ ہاؤس سے کیپمپ ڈیوڈ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ حسبِ معمول قومی سلامتی کا عملہ ان کے ہمراہ سفر کر رہا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اُنہیں اس واقعہ پر بریفنگ دی جائے گی۔

سینٹ میں اقلیتی جماعت کے لیڈر سینیٹر مچ میکونل نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ وہ کیپیٹل پولیس کے زخمی ہونے والے افسران کے لیے دعا گو ہیں۔ انہیں واقعہ سے متعلق تفصیلات ابھی تک پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جائے وقعہ پر پہنچنے والے امریکی کیپیٹل پولیس کے جوانوں اور فرسٹ ریسپانڈرزکے از حد مشکور ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG