رسائی کے لنکس

logo-print

کیپٹن (ر) صفدر راولپنڈی سے گرفتار


مقامی میڈیا کے مطابق کیپٹن صفدر نے اپنی حمایت کے لیے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پہنچنے کا کہا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے داماد اور اسلام آباد کی احتساب عدالت سے ایک سال کی سزا پانے والے سابق کیپٹن محمد صفدر اپنے آپ کو حکام کے حوالے کردیا ہے۔

کیپٹن صفدر اتوار کو راولپنڈی میں مسلم لیگ (ن) کی ایک ریلی میں اچانک نمودار ہوئے تھے۔

کیپٹن صفدر کی قیادت میں ن لیگ کی ریلی نے شہر کے مختلف علاقوں کا گشت کیا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنی گرفتاری کے لیے آنے والی قومی احتساب بیورو کی ٹیم کو گرفتاری دے دی۔

رواں ہفتے اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو 10 سال، ان کی بیٹی مریم نواز کو 7 سال اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت نے یہ فیصلہ اس وقت سنایا تھا جب ان تینوں میں سے عدالت میں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

جمعے کو سنائے جانے والے فیصلے کے موقع پر کیپٹن (ر) صفدر اپنے آبائی علاقے مانسہرہ میں موجود تھے جہاں وہ قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر امیدوار بھی تھے۔

تاہم عدالت سے سزا ملنے کے بعد وہ 25 جولائی کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل ہوگئے ہیں۔

عدالتی فیصلے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) کی ایک ٹیم کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرنے کے لیے مانسہرہ پہنچی تھی اور اس نے کئی مقامات پر چھاپے بھی مارے تھے لیکن وہ کیپٹن صفدر کو گرفتار نہیں کرسکی تھی۔

نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر جنہیں احتساب عدالت نے ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ (فائل فوٹو)
نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر جنہیں احتساب عدالت نے ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ (فائل فوٹو)

اتوار کو کیپٹن صفدر کا ایک آڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے گرفتاری دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ "غیرت کا تقاضا ہے کہ وہ گرفتاری دے دیں گے۔ لیکن اس بات کا فیصلہ ان کی جماعت کرے گی کہ وہ کس شہر سے ایسا کریں گے۔"

اپنی گرفتاری سے قبل ریلی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ کہ احتساب عدالت سے ایک سال قید کی سزا ملنے کے بعد حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ انہوں نے جماعت کی ہدایت کے بعد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ انہیں ان کے آبائی شہر یا ہزارہ ڈویژن کے علاوہ کسی دوسرے علاقے سے گرفتار کیا جائے۔

دوسری طرف نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ وہ اپنے والد نواز شریف کے ہمراہ جمعے کو پاکستان پہنچیں گی۔

تاحال یہ نہیں بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم اور ان کی صاحبزادی پاکستان کے کس ائیر پورٹ پر اتریں گے۔

واضح رہے کہ نوازشریف اپنی اہلیہ کلثوم کی علالت کے باعث اس وقت لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کی اہلیہ ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG