رسائی کے لنکس

logo-print

امن فوج ’نسل کشی‘ روکنے میں ناکام رہی: ایمنسٹی انٹرنیشنل


اپنی ایک تازہ رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ اس نے رواں سال کے اوائل سے جمہوریہ وسطی افریقہ میں مسلمانوں پر بڑے پیمانے پر ہونے والے حملوں کو دستاویزی شکل دی ہے اور اس کے بقول تشدد کی وجہ سے یہاں سے تقریباً تمام آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم ایک بین الاقوامی تنظیم نے کہا ہے کہ وسطی جمہوری افریقہ کے مغربی حصوں میں ’’نسل کشی‘‘ کے شکار مسلمان شہریوں کی حفاظت کے لیے امن مشن کے اہلکاروں کی تیزی سے تعیناتی نہیں کی گئی۔ یہاں مبینہ طور پر عیسائی برادری مسلمانوں پر حملوں میں مصروف ہے۔

بدھ کو جاری کی گئی اپنی ایک تازہ رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ اس نے رواں سال کے اوائل سے مسلمانوں پر بڑے پیمانے پر ہونے والے حملوں کو دستاویزی شکل دی ہے اور اس کے بقول تشدد کی وجہ سے یہاں سے تقریباً تمام آبادی کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

رپورٹ کے مطابق عیسائیوں پر مسلمان سیلیکا جنگجوؤں کی طرف سے کیے جانے والے حملے جوابی کارروائیوں کے طور پر کیے گئے جو عیسائی پر تشدد کا ’’کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے‘‘۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ امن مشن میں شامل فرانسیسی اور افریقی اہلکاروں نے علاقے میں بظاہر بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کو رونما ہونے سے روکا لیکن وہ سیلیکا اور اینٹی بالاکا فورسز کو غیر مسلح کرنے میں ناکام رہے۔

گروپ نے اس بات زور دیا کہ ان علاقوں میں امن مشن کے زیادہ سے زیادہ اہلکاروں کو تعینات کیا جائے تاکہ ضرورت مند شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

اس ملک میں اقوام متحدہ کے طرف سے امن فوج کے پانچ ہزار افریقی اور سولہ سو فرانسیسی فوجی تعینات ہیں۔ یورپی یونین نے بھی پانچ سو فوجی بھیجنے پر آمادگی ظاہر کر رکھی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے منگل کو یورپی یونین پر زور دیا تھا کہ وہ اس تعیناتی کو تیز کرے۔ انھوں نے فرانس اور دیگر ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی مزید فوجی بھیجیں۔
XS
SM
MD
LG