رسائی کے لنکس

شام میں اتوار کو ہونے والے ایک خود کش کار بم دھماکے میں کم از کم 8 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہو ئے ہیں۔

انسانی حقوق کے نگراں ادارے، سیرئن آبزرویٹری نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21 بتائی ہے۔ ساتھ ہی، تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ تشویش ناک حالت والے زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق خود کش بمبار ان تین مشتبہ گاڑیوں میں سے ایک گاڑی میں موجود تھا جنہیں اتوار کو سکیورٹی فورسز نے وسطیٰ دمشق میں تحریر اسکوئر میں اپنے حصار میں لیا تھا۔

دیگر دو گاڑیوں میں بھی دھماکا خیز مواد نصب تھا جنہیں مغربی دمشق میں ایک مقام پر تباہ کر دیا گیا۔

اگرچہ آزاد ذرائع سے ہلاک ہونے والوں تعداد کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں تاہم شام کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں آٹھ افراد ہلاک اور 12 دیگر زخمی ہوئے۔

شام کے دیگر علاقوں میں اکثر خود کش دھماکے ہوتے رہے ہیں تاہم دارالحکومت دمشق میں ایسے واقعات بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔

تاحال کسی فرد یا گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن شدت پسند گروپ داعش ماضی میں ہونے والے ایسے کئی واقعات کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔

رواں سال اپریل میں شامی شہر حلب کے قریب ہونے والے کار بم دھماکوں میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔


فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG