رسائی کے لنکس

logo-print

ملک دشمنی کے الزام میں گرفتار عمر داؤد کے خلاف مقدمہ درج


ڈائریکٹر ایف آئی اے عمران شاہد نے دعویٰ کیا کہ ملزم سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی کرتا رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے حکام نے ملک دشمنی کے الزام میں گرفتار کیے گئے مبینہ ملزم عمر داؤد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

حکام نے پیر کو عمر داؤد کی خیبر پختونخوا سے گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔ عمر داؤد کو ملک دشمنی اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں 22 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ البتہ ان کی گرفتاری کو گزشتہ روز ظاہر کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کرک سے تعلق رکھنے والے عمر داؤد گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان میں مقیم تھے۔

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف ائی اے‘ کے ڈائریکٹر عمران شاہد نے منگل کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے عمر داؤد کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ عمر داؤد خٹک نامی نوجوان کو 22 اگست کو طورخم کی سرحدی گزر گاہ سے اُس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ افغانستان سے پاکستان آ رہے تھے۔

عمران شاہد کے مطابق عمر داؤد کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہونے پر اُنہیں حراست میں لیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم عمر داؤد کے پاس افغانستان اور پاکستان دونوں ملکوں کی شہریت اور پاسپورٹ تھے۔ عمر نے افغانستان کے پاسپورٹ پر پانچ بار بھارت کا دورہ بھی کیا تھا۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں قیام کے دوران عمر داؤد نے پختونوں کو پاکستان کے خلاف ورغلانے کی کوشش کی اور ملزم سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے عمر داؤد کے خلاف دہری شہریت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے عدالتی کارروائی شروع کر دی ہے اور انہیں آئندہ پیشی کے بعد عدالتی حکم کے تحت انسدادِ دہشت گردی پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق کرک سے تعلق رکھنے والا عمر داؤد خٹک پچھلے کئی برسوں سے افغانستان میں مقیم تھا۔

اہل خانہ کا موقف

وائس آف امریکہ کے نمائندے نذر اسلام سے گفتگو کرتے ہوئے عمر داؤد کے چھوٹے بھائی محمد اقرار نے بتایا کہ ہم پانچ بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ اقرار کے بقول ان کے والد فوج سے ریٹائر ہو کر اب تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں۔

اقرار نے مزید بتایا کہ عمر داؤد نے فوجی فاؤنڈیشن کالج سے ایف ایس سی کی اور پھر سی اے کرنے کے لیے اسلام آباد کے ایک ادارے میں داخلہ لیا۔ ان کے بقول عمر تعلیم ادھوری چھوڑ کر ملازمت کے لیے کابل چلے گئے تھے۔

محمد اقرار کا کہنا تھا کہ عمر داؤد کی سوشل میڈیا پر پوسٹس سے ان کے والد شدید پریشان تھے۔ ان کے بقول انہیں پشاور کی سینٹرل جیل سے کال موصول ہوئی اور ان کے عمر سے بات ہوئی جس کے بعد ہمیں ان کی گرفتاری کا علم ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG