رسائی کے لنکس

logo-print

علی وزیر کے خلاف 'بغاوت پر اکسانے' کا مقدمہ درج


فائل فوٹو

شمالی وزیر ستان کی پولیس انتظامیہ نے باقاعدہ طور پر پختون تحفظ تحریک کے رہنما اور جنوبی وزیرستان سے منتحب ممبر قومی اسمبلی علی وزیر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف لوگوں کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اُکسانے اور ملکی سلامتی کیلئے خطرات پیدا کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

یہ مقدمہ شمالی وزیرستان کے ضلعی پولیس افسر کفایت اللہ خان کی مدعیت میں میر علی پولیس تھانے میں 5 مئی کو درج کیا گیا ہے۔ ابھی تک اس مقدمے میں گرفتاری عمل میں لانے کے بارے میں کسی قسم کا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم میر علی سب ڈویژن کی تحصیل شیوہ جہاں پر یکم مئی کو علی وزیر اور پختون تحفظ تحریک کے دیگر رہنماؤں نے خاصہ دار فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

مقامی انتظامی عہدیداروں نے ایف آئی اے میں نامزد دیگر ملزمان کے خلاف نوٹس جاری کر دئے ہیں۔ شمالی وزیرستان پولیس رپورٹ کے مطابق یکم مئی کو علی وزیر اور پختون تحفظ تحریک کے دیگر رہنما شیوہ تحصیل میں مجوزہ ڈیم کرم تنگی کے خلاف اکٹھے ہوئے۔ اس مظاہرے میں کابل خیل قوم کے دیگر افراد بھی شامل تھے۔ مظاہرے کے دوران شرکاء نے ’لروبر یو افغان‘ یعنی ’پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے دونوں جانب رہنے والے لوگ افغان ہیں اور افغان سے یہاں مراد پشتون ہیں‘ اور ’یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘ سمیت حکومت کے خلاف نعرے لگوائے۔ مقدمے میں علی وزیر اور ان کے ساتھیوں پر غیر ملکی ایجنڈے کے تحت مسلح افواج کے خلاف بغاوت پر لوگوں کو اُکسانے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

پختون تحفظ تحریک کے رہنما اور شمالی وزیرستان سے ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے علی وزیر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اسے حکومت اور ریاست کی دوغلی پالیسی قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ جو لوگ دہشتگردی میں ملوث ہیں، لوگوں اور سیکورٹی اہلکاروں کو قتل کرتے ہیں، اُن کے خلاف مقدمات درج نہیں کئے جاتے۔ مگر جو دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں، تشددکے خلاف مظاہرے کرتے ہیں، ان کے خلاف مقدمات درج کئے جاتے ہیں اور ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔

محسن داوڑ نے کہا کہ یہ مقدمہ بالکل سیاسی ہے اور وہ فی الوقت اس کے خلاف کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی نہیں کرینگے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے کہا کہ اب قبائلی علاقوں کی حیثیت ختم ہو گئی ہے اور یہ علاقے باقاعدہ طور پر قانون کی عملداری میں آ چکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جہاں قانون کی خلاف ورزی ہوگی وہاں متعلقہ افراد کے خلاف مقدمات درج ہوں گے اور اُن کے خلاف عدالتی کاروائی بھی ہو گی۔ شوکت علی یوسفزئی نے بتایا کہ اس مقدمے میں تفتیش جاری ہے اور اس کی تکمیل کیلئے باقاعدہ طو رپر قانونی کاروائی شروع ہو چکی ہے۔

پختون تحفظ تحریک کے اہم رہنماؤں کے کیخلاف پچھلے ایک سال کے دوران سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ، کراچی، صوابی، مردان، پشاور اور اسلام آباد سمیت کئی شہروں اور قصبوں میں اسی نوعیت کے مقدمات درج کئے جا چکے ہیں۔ مقدمات میں نامزد زیادہ تر افراد مختلف عدالتوں سے ضمانتوں پر رہائی حاصل کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG