رسائی کے لنکس

logo-print

فوجی حکمرانوں کے خلاف مقدمات کب ہوئے، کیا فیصلے ہوئے؟


جنرل پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کا فیصلہ کسی فوجی حکمران کے خلاف مقدمے کی پہلی مثال نہیں۔ اس سے پہلے چاروں فوجی حکومتوں کے خلاف مقدمات اعلیٰ عدالتوں میں پہنچ چکے ہیں اور ایک میں مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو غاصب بھی قرار دیا گیا تھا۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی فوجی حکمران کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔

اتفاق سے اس سلسلے کا آغاز مارشل لا براہ راست چیلنج کرنے سے نہیں ہوا۔ بلوچستان میں ایک شخص ڈوسو کو قبائلی لویہ جرگے نے ایف سی آر قانون کے تحت قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔ اس کے اہلخانہ نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی جس نے 1956 کے آئین کے آرٹیکل پانچ اور سات کے تحت ڈوسو کے حق میں فیصلہ کیا۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جس نے سماعت کے لیے 13 اکتوبر 1958 کی تاریخ مقرر کی۔ اس سے قبل 7 اکتوبر 1958 کو مارشل لگا دیا گیا۔

سپریم کورٹ میں ڈوسو کا کیس شروع ہوا تو مشکل آن پڑی کہ لاہور ہائیکورٹ نے 1956 کے آئین کے تحت فیصلہ دیا تھا جو منسوخ ہو چکا تھا۔ چنانچہ چیف جسٹس منیر کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کا سہارا لیا اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔

اس فیصلے میں قرار دیا گیا کہ مارشل لا انقلاب کی ایک قسم ہے۔ چونکہ اس کے خلاف عوام نے مزاحمت نہیں کی اس کا مطلب ہے کہ وہ اس تبدیلی سے خوش ہیں۔ اس لیے یہ مارشل لا قانونی ہے اور اس کے تحت مقدمات کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

یہ پاکستان میں نظریہ ضرورت کے استعمال کا پہلا موقع نہیں تھا۔ اس سے پہلے 1955 میں جسٹس منیر ہی کی سربراہی میں فیڈرل کورٹ گورنر جنرل غلام محمد کی جانب سے آئین ساز اسمبلی کو بر طرف کرنے کے فیصلے کو درست قرار دے چکی تھی۔ ان دنوں سپریم کورٹ کو فیڈرل کورٹ کہا جاتا تھا۔

دوسرا مقدمہ بھی براہ راست مارشل لا کے خلاف نہیں تھا۔ اسے عاصمہ جیلانی کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنے والد ملک غلام جیلانی کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور اس کے لیے 1962 کے آئین کا حوالہ دیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے عذر پیش کیا کہ مارشل لا ریگولیشن کی وجہ سے وہ اس کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔

یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا جس کے چیف جسٹس حمود الرحمان تھے۔ سپریم کورٹ نے جنرل یحییٰ خان کو غاصب قرار دیا۔ لیکن، یاد رہے کہ وہ اس وقت اقتدار چھوڑ چکے تھے۔ اس فیصلے میں ان کے لیے کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی۔ لیکن جمہوریت بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کی وجہ سے سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو کو مارشل لا اٹھانا پڑا تھا۔

1977 میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے خلاف نصرت بھٹو نے عدالت سے رجوع کیا لیکن چیف جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کو زندہ کرکے مارشل لا کو جائز قرار دے دیا۔

1999 میں جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کو اس وقت مسلم لیگ ن کے رہنما ظفر علی شاہ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے ڈوسو کیس اور نصرت بھٹو کیس کے نظریہ ضرورت کی مثال پیش کی، بلکہ جنرل پرویز مشرف کو تین سال تک حکومت کے علاوہ آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیا۔

جنرل پرویز مشرف کے 1999 کے اقدامات کو 2002 کے عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والے پارلیمان نے قانونی تحفظ فراہم کیا۔ لیکن2007 میں انھوں نے ایک بار پھر آئین معطل کرکے ایمرجنسی لگائی۔ وہ اگلی پارلیمان سے اس عمل کو قانونی تحفظ نہ دلوا سکے۔

دسمبر 2013 میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ قائم ہوا اور اگلے سال مئی میں ان پر فرد جرم عائد ہوئی۔ چھ سال بعد 17 دسمبر 2019 کو جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے انھیں مجرم قرار دے کر سزائے موت سنادی۔

یہ کیس ابھی انجام کو نہیں پہنچا کیونکہ وفاقی حکومت اس کیس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگلے چیف جسٹس گلزار احمد کا نام اس فیصلے کی وجہ سے تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ لیکن یہ فیصلہ وہ خود کریں گے کہ ان کا نام جسٹس منیر، جسٹس انوار الحق اور جسٹس ارشاد حسن خاں کے ساتھ لکھا جائے یا جسٹس حمود الرحمان کے ساتھ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG