رسائی کے لنکس

logo-print

ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور بدعنوانی حادثات کا اہم سبب


گزشتہ سال صرف کراچی میں 1200 افراد سڑک حادثات میں اپنی جانوں کو گنوا بیٹھے۔ روڈ ٹریفک انجری ریسرچ اینڈ پریوینشن سینٹرکی ایک تحقیق اوراعداد وشمار بتاتے ہیں کہ سال 2013 میں 35 ہزار افراد زخمی بھی ہوئے ۔

روڈ ٹریفک انجری ریسرچ اینڈ پریوینشن سینٹر کراچی کے سربراہ اور معروف نیوروسرجن ڈاکٹر رشید جمعہ کا کہنا ہے کہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز اور بدعنوانی کے سبب ٹریفک حادثات میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ سال صرف کراچی میں انہی وجوہات کے سبب 1200 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا ” ہفتے کی صبح حب میں ہونے والا ٹریفک حادثہ بھی انہی وجوہات کے سبب پیش آیا۔ اس حادثے کی اصل وجہ ایک گڑھا بتایا جارہا ہے جس کی کافی عرصے سے مرمت نہیں ہوئی تھی۔ اگر مناسب وقت پر سڑک کی مرمت ہوجاتی تو اس حادثے میں ضائع ہونے والی 35سے زائد قیمتی جانیں ضائع نہ ہوتیں۔“

ڈاکٹر جمعہ کے مطابق ٹریفک حادثے کا ذمے دار کوئی ایک فرد یا ایک شے نہیں ہوتی ، کئی عوامل اس کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ بدعنوانی بھی ہے جس کے بل پرناصرف لوگ ان فٹ گاڑیوں کو سڑک پر لے آتے ہیں بلکہ غیرتربیت یافتہ اور اناڑی لوگوں کو بھی ہیوی گاڑیوں کے لائسنس جاری کردیئے جاتے ہیں جبکہ وہ لائٹ وہیکلز بھی صحیح طریقے سے نہیں چلا سکتے۔۔اور نتیجہ حب جیسے بھیانک حادثے کی صورت میں نکلتا ہے ۔

ٹریفک حادثات: ایک سال میں 1200 اموات
ڈاکٹر رشید جمعہ کے مطابق گزشتہ سال صرف کراچی میں 1200 افراد سڑک حادثات میں اپنی جانوں کو گنوا بیٹھے۔ روڈ ٹریفک انجری ریسرچ اینڈ پریوینشن سینٹرکی ایک تحقیق اوراعداد وشمار بتاتے ہیں کہ سال 2013 میں 35 ہزار افراد زخمی بھی ہوئے ۔ یہ اعداد و شمار کسی بھی حکومت کو ہلادینے کے لئے کافی ہیں۔

ڈاکٹر جمعہ کے مطابق حب جیسے حادثات انسانی المیہ کو جنم دیتے ہیں، اس لئے پہلی ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وجوہات پر قابو پایا جائے جن کے سبب ٹریفک حادثات اور انسانی جانوں کے ذیاں میں اضافہ ہورہا ہے۔
XS
SM
MD
LG