رسائی کے لنکس

logo-print

وسط افریقی جمہوریہ: دو فوجی ہلاک، فرانسسی صدر کا دورہ


اِس افریقی ملک کو کئی ماہ سے عدم استحکام کے حالات درپیش ہیں، جِن سے نمٹنے کے لیے فرانس نے مزید فوج روانہ کی تھی، جس کے بعد فرانس کے فوجیوں کی یہ پہلی ہلاکتیں ہیں

فرانسسی صدر، فرانسواں ہولاں منگل کے روز وسط افریقی جمہوریہ پہنچے، جس سے چند ہی گھنٹے قبل، یہ خبر موصول ہوئی کہ رات کو ہونے والی لڑائی میں فرانس کے دو فوجی ہلاک ہوئے۔

اِس افریقی ملک کو کئی ماہ سے عدم استحکام کے حالات درپیش ہیں، جِن سے نمٹنے کے لیے فرانس نے مزید فوج روانہ کی تھی، جس کے بعد فرانس کے فوجیوں کی یہ پہلی ہلاکتیں ہیں۔

صدر ہولاں جنوبی افریقہ سے وسط افریقی جمہوریہ کے دارالحکومت، بینگوئی پہنچے، جہاں اُنھوں نے منگل کے روز جنوبی افریقہ کے سابق صدر اور نسلی امتیاز کی جدوجہد کی علامت، نیلسن منڈیلا کی یاد میں ہونے والی رسومات میں شرکت کی۔

فرانسسی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق، بینگوئی آمد کے فوری بعد، مسٹر ہولاں نے چند لمحات فوت ہونے والے فوجیوں کے جنازوں کے سامنے جُھک کر گزارے۔

دفاع سے متعلق فرانس کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے اِن دو فوجیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا، جو بینگوئی میں ہوائی اڈے کے قریب شدت پسندوں کو غیر مسلح کرنے کی کارروائی میں شریک تھے۔

وسط افریقی جمہوریہ میں افریقی افواج کے ہمراہ سلامتی کی بحالی اور سویلنز کو تحفظ کی فراہمی کے کام میں اقوام متحدہ کی طرف سے دیے گئے اختیار کی انجام دہی کے سلسلے میں، فرانس نے 1600 فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔

اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر، جیرالڈ اروڈ نے منگل کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ مشن ’بہت مشکل نوعیت کا‘ ہوگا، تاہم فرانس اِس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

اُن کے بقول، ہمیں روز ِ اول سے یہ پتا تھا کہ یہ مشن آسان معاملہ نہیں، اِسی لیے، خصوصی طور پر ہم یہ چاہتے ہیں کہ سارے مسلح گروپوں کو غیر مسلح کیا جائے۔ یہ پہلا مرحلہ ہے۔ جب کہ، یہ ایک ہلاکت خیز واقعہ ہے، اور یقینی طور پر، ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے فوجیوں کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا۔ تاہم، ہم پیش قدمی کرنے پر پُرعزم ہیں۔

حالیہ دِنوں کے دوران، ملک کی مسلمان اور عیسائی برادریوں کے مابین تناؤ میںٕ اضافہ آیا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے انٹرویو میں، ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے جوہن مرینر نے کہا کہ منگل کے دِٕن ایک بپھرے ہوئے جلوس نے بینگوئی کی ایک مسجد کو نذرِ آتش کیا۔

امریکی صدر براک اوباما نے وسط افریقی جمہوریہ کے عوام کے لیے ریکارڈ کیے گئے اپنے پیغام میں زور پکڑتے ہوئے فرقہ واریت پر مبنی تشدد کے ماحول میں تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کیا ہے، جس میں گذشتہ ہفتے کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اُنھوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی مختلف راہ اپنائی جائے۔
XS
SM
MD
LG