رسائی کے لنکس

'مولانا فضل الرحمٰن کی امانت میں خیانت نہیں کر سکتا'


چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ حکومت کے خاتمے کی قیاس آرائیوں پر کان دھرنے کے بجائے معیشت کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔ (فائل فوٹو)
چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ حکومت کے خاتمے کی قیاس آرائیوں پر کان دھرنے کے بجائے معیشت کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔ (فائل فوٹو)

اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے مولانا فضل الرحمن سے دھرنا ختم کیے جانے کے عوض طے پانے والا معاہد منظرِ عام پر لانے سے انکار کر دیا ہے۔ چوہدری پرویز الہٰی کہتے ہیں کہ امانت میں خیانت نہیں کر سکتے۔ جو بات ہو گی وہ مولانا فضل الرحمن سے ہی کریں گے۔

لاہور میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ وہ ان شرائط کو منظرِ عام پر نہیں لا سکتے جو مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کے عوض عائد کی گئی تھیں۔

خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایک بار پھر حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہٰی پر زور دیا تھا کہ وہ نومبر میں دھرنا ختم کرنے سے متعلق طے شدہ شرائط منظر عام پر لائیں۔

حکمراں اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الہٰی اور چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمٰن کو دھرنا ختم کرنے پر قائل کیا تھا۔

'حکومت کو اپوزیشن کے بجائے اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:48 0:00

مولانا فضل الرحمن کی جانب سے دوبارہ احتجاج کی کال دینے کے اعلان پر چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا کام حکومت پر تنقید کرنا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی پارٹی اپوزیشن میں ہے۔ لہذٰا اُن پر عوام کی جانب سے دباؤ ہوتا ہے کہ وہ اُن کی آواز بنیں۔

'کمیٹی تبدیل کرنے سے ابہام پیدا ہوا'

تحریکِ انصاف کی حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے حوالے سے چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ اب کوئی وجہ نہیں کہ حکومت اپنے وعدے پورا نہ کرے۔ ان کے بقول پہلے بھی حکومت سے معاملات طے پا گئے تھے، صرف کمیٹی تبدیل کرنے سے ابہام پیدا ہوا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ پہلے ایک ٹیم ہمارے ساتھ مذاکرات کر رہی تھی، پھر دوبارہ بات وہیں سے شروع ہوئی جہاں ختم ہوئی تھی۔ چوہدری پرویز الہٰی کے بقول شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ حکومت اپنے وعدے پورے نہیں کرے گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے نومبر میں اسلام آباد میں حکومت مخالف مارچ کیا تھا۔ (فائل فوٹو)
مولانا فضل الرحمٰن نے نومبر میں اسلام آباد میں حکومت مخالف مارچ کیا تھا۔ (فائل فوٹو)

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ق) مرکز اور پنجاب میں حکمراں جماعت تحریکِ انصاف کی اتحادی ہے۔ البتہ چند روز سے مسلم لیگ (ق) کے رہنما اتحاد قائم ہوتے وقت طے پانے والے معاہدے پر عمل نہ ہونے کے شکوے کر رہے تھے۔

وعدے پورے نہ ہونے پر مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کا اشارہ بھی دیا گیا تھا۔

لیکن پیر کو اعلٰی سطحی حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے بعد بظاہر دونوں جماعتوں میں معاملات طے پا گئے تھے۔

'معیشت میں بہتری کی ضروری ہے'

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں چوہدری پرویز الہٰی کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔

اُن کے بقول حکومت نے اب مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے کام شروع کیا ہے۔ سرمایہ کاری ہو گی تو ملک میں فیکٹریاں لگیں گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

حکمراں جماعت تحریک انصاف کے اعلٰی سطحی وفد نے پیر کو مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔
حکمراں جماعت تحریک انصاف کے اعلٰی سطحی وفد نے پیر کو مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

'تین ماہ میں حکومت جانے کی باتیں غلط ہیں'

اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر حکومت کے قبل از وقت گھر جانے کی باتیں ماضی میں بھی عام رہی ہیں۔

لیکن ان کے بقول بطور حکومت "ہماری ساری توجہ اپنی کارکردگی کی جانب ہونی چاہیے۔"

اُنہوں نے کہا کہ بیورو کریسی میں تبدیلیوں کا اختیار وزیرِ اعظم کے پاس ہے۔ بیورو کریسی اور پولیس میں تبدیلیاں ہر دور میں ہوتی رہی ہیں۔ لہذٰا اسے ایشو بنانا مناسب نہیں ہے۔

آصف زرداری اور نواز شریف کا سیاسی مستقبل

سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ دونوں کی جماعتوں کا ملکی سیاست میں اہم کردار ہے۔

چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت ہے جب کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اُن کے اراکین ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے بھی اراکین اسمبلی ہیں، تو ظاہر ہے مضبوط اپوزیشن ہے۔

XS
SM
MD
LG