رسائی کے لنکس

logo-print

بوکو حرام کا چاڈ کے ایک گاؤں پر حملہ، 18 افراد ہلاک


بوکوحرام کے قبضے سے آزاد کرائی جانے والی دپاچی سکول کی چند لڑکیاں۔ دہشت گرد گروپ نے اسکول کے ہوسٹل پر حملہ کر کے تقریباً ایک سو لڑکیوں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

بوکو حرام گروپ شمالی  مشرقی نائیجیریا میں اپنے انداز کا اسلامی نظام نافذ کرنے کے لیے، چاڈ، نائیجر اور کیمرون میں  9 سال سے عسکری کارروائیاں کر رہا ہے۔

مغربی چاڈ کے علاقے میں بوکوحرام سے تعلق رکھنے والے مبینہ عسکریت پسندوں نے 18 کاشت کاروں کو ہلاک کرنے کے بعد 9 عورتوں کو اٹھا کر لے گئے۔

چاڈ کے حکام نے بتایا ہے کہ یہ تازہ ترین واقعہ تشدد کی اس لہر کا حصہ ہے جو ہمسایہ ملک نائیجیریا سے خطے بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔

خبررساں ادارے روئیٹرز نے بتایا ہے کہ پچھلے ہفتے جمعرات کو رات گئے جھیل چاڈ کے علاقے کے ایک گاؤں میروم میں گھس آئے اور کسانوں کے گلے کاٹ دیے۔

علاقے کے گورنر محمد عبالی صالح نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ حملہ آور 9 عورتوں کو اٹھاکر اپنے ساتھ لے گئے، تاہم ان میں ایک ان کے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔

گورنر کا کہنا تھا کہ کسان نئی ذرخیز زمینوں کی تلاش میں اس علاقے سے باہر نکل گئے جس کے متعلق سیکیورٹی فورسز نے غیر محفوظ قرار دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حملے کا نشانہ بن گئے۔

بوکو حرام گروپ شمالی مشرقی نائیجیریا میں اپنے انداز کا اسلامی نظام نافذ کرنے کے لیے، چاڈ، نائیجر اور کیمرون میں 9 سال سے عسکری کارروائیاں کر رہا ہے۔

تشدد کی ان کارروئیوں میں 30 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور پونے تین لاکھ کے لگ بھگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

بوکو حرام کی دہشت گردی سے زیادہ متاثر نہ ہونے والے ملک چاڈ نے 2016 میں نائیجریا کے 32 فوجیوں کی ہلاکت نے بعد اپنے 2 ہزار فوجی مدد کے لیے بھیجے تھے لیکن انہیں پچھلے سال اکتوبر میں واپس بلا لیا گیا، جس کے بعد خطے کی سیکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG