رسائی کے لنکس

logo-print

چارلسٹن: گرجا گھر شوٹنگ کے ملزم کا اقبالِ جرم سے انکار


ملزم کو نسلی منافرت اور مذہبی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے کے وفاقی الزامات کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی، اُن کے خلاف ریاست جنوبی کیرولینا میں قتل اور قتل کے ارادے سے متعلق شقوں کے تحت بھی الزامات عائد ہیں

جنوبی کیرولینا کے شہر چارلسٹن میں گرجا گھر میں عبادت کرنے والے نو افریقی امریکیوں پر مسلح حملہ کرنے کے واقع کے ملزم نے اپنے اوپر عائد 33 وفاقی الزامات میں اقبال جرم سے انکار کیا ہے۔

ڈائلن روف نے یہ مؤقف جمعے کے روز اختیار کیا جب چارلسٹن کی وفاقی عدالت میں اُن کے خلاف باضابطہ قانونی چارہ جوئی کا آغاز ہوا، حالانکہ وکیل دفاعی نے بتایا تھا کہ روف اقبالِ جرم کا ارادہ رکھتا ہے۔

اٹارنی، ڈیوڈ بروک نے کہا ہے کہ وہ اپنے مؤکل کو اُس وقت تک اقبالِ جرم کا مشورہ نہیں دیں گے، جب تک استغاثہ یہ واضح نہیں کرتا آیا وہ سزائے موت کا مطالبہ کرتے گا یا نہیں۔ اگر وہ چاہے تو آگے کسی وقت بھی اپنا مؤقف تبدیل کر سکتا ہے۔

روف کو وفاقی الزامات کا سامنا ہے جن میں نسلی منافرت اور مذہبی عبادت میں رکاوٹ ڈالنا شامل ہے۔

اُن پر ریاست جنوبی کیرولینا میں قتل اور قتل کے ارادے سے متعلق شقوں کے تحت بھی الزامات لگائے گئے ہیں۔

نہ وفاقی ناہی ریاست کے وکلائے استغاثہ نے اِس بات کا فیصلہ کیا ہے، آیا الزام ثابت ہونے کی صورت میں وہ روف کے خلاف سزائے موت طلب کریں گے۔

جمعے ہی کی سماعت کے دوران، ہلاک شدگان کے اہل خانہ کے کچھ ارکان نے عدالت کے روبرو اپنے بیان ریکارڈ کرائے۔

کمرہٴ عدالت میں روف خاموش بیٹھا رہا، جب کہ اُنھوں نے جج کے سوالات پر چند بار صرف ’ہاں‘ کا جواب دیا۔

اکیس برس کےسفید فام، روف پر گذشتہ ہفتے نسلی منافرت کے الزام عائد کیے گئے تھے، جس سے تقریباً ایک ماہ قبل ملزم نے چارلسٹن میں ’امینئول افریکن میتھڈسٹ چرچ‘ پر گولیاں چلائی تھیں۔

روف کی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں وہ خانہ جنگی کے دور کے پرچم لہرا رہا ہے، اور زندہ بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران، مشتبہ شخص نے نسلی نوعیت کے جملے کہے۔

XS
SM
MD
LG