رسائی کے لنکس

logo-print

علاقائی امن کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے: جنرل باجوہ


یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب جنگ سے تباہ حال افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں دہشت گردوں کی تمام محفوظ پناہ گاہیں ختم کر دی گئی ہیں اور پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے دوسروں سے بھی اسی طرح کی توقع رکھتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار جنرل باجوہ نے منگل کو کابل میں ہونے والی 'چیفس آف ڈیفنس' کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ 'آئی ایس پی آر' کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق جنرل باجوہ نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ علاقائی امن و استحکام کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں تاہم جنرل باجوہ کے بقول دہشت گردوں کی باقیات 27 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی اور سرحد کی موثر سیکیورٹی نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

لیکن پاکستانی فوج کے سربراہ کے بقول آپریشن ردالفساد کے تحت ان دہشت گردوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

اس کانفرنس میں امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل، افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکولسن سمیت افغانستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کی فوجوں کے سربراہان بھی شریک ہوئے۔

پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اور اسے افغانوں کی شمولیت سے بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

امریکہ اور افغانستان کی طرف سے پاکستان پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا جو افغانستان میں تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

لیکن اسلام آباد ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ افغانستان کا امن خود پاکستان کے مفاد میں ہے اور وہ اپنی سرزمین افغانستان سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب جنگ سے تباہ حال اس ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں صرف دارالحکومت کابل میں ہی تین بڑے مہلک دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں 140 کے لگ بھگ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

اسی دوران ملک کے مختلف حصوں میں بھی عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کی اطلاعات آئے روز سامنے آتی رہی ہیں اور طالبان کو امن عمل میں شامل کرنے کے لیے انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں بھی تاحال بار آور ثابت نہیں ہو سکی ہیں۔

کابل میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد افغان وزیرِ داخلہ اور انٹیلی جینس ادارے کے سربراہ اسلام آباد آئے تھے اور انھوں نے ان حملوں سے متعلق بعض شواہد کا پاکستانی حکام سے تبادلہ کیا تھا جن میں ان حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

تاہم پاکستانی عہدیداروں نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ شواہد قابلِ اعتماد نہیں لیکن اگر افغانستان چاہے تو پاکستان ان حملوں کی تحقیقات میں معاونت کے لیے تیار ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں پاکستانی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ ایک وفد کے ہمراہ کابل گئی تھیں جہاں دونوں ملکوں کے درمیان ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس ہوا تھا جب کہ نائب افغان وزیرِ خارجہ حکمت خلیل کرزئی کی سربراہی میں ایک وفد نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد کا دو روزہ دورہ کر کے مختلف باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

افغان وفد کے دورے کے بعد پاکستان کی طرف سے صرف اتنا کہا گیا تھا کہ مذاکرات اچھے رہے جن میں بعض امور پر اتفاق ہوا جب کہ بعض معاملات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

لیکن افغان وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ "باہمی تعاون کے لائحۂ عمل پر کچھ پیش رفت کے علاوہ دیگر بامعنی امور پر کوئی نتیجہ خیز بات چیت نہیں ہوئی۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG