رسائی کے لنکس

logo-print

پاک افغان مذاکرات، بعض امور پر کام کرنے کی ضرورت


نائب افغان وزیر خارجہ اور پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے اپنے اپنے وفود کی سربراہی کی

'افغانستان پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سولیڈریٹی' کے لائحہ عمل کے تحت ہونے والے دو روزہ مذاکرات ہفتہ کو اسلام آباد میں ختم ہو گئے جن میں امن و یکجہتی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق دونوں ملکوں کے وفود کی مشاورت اچھی رہی جس میں بعض امور پر اتفاق کیا گیا جب کہ بعض پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

افغانستان کے نائب وزیرخارجہ حکمت خلیل کرزئی اپنے وفد کے ہمراہ جمعہ کو اسلام آباد آئے تھے جہاں پاکستانی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی سربراہی میں وفد سے ان کی مشاورت ہوئی۔

باہمی تعلقات میں تناؤ کے باوجود گزشتہ ہفتے سے دونوں ملکوں کے وفود نے ایک دوسرے کے ہاں دورے کیے جن میں دہشت گردی کے خلاف تعاون سمیت افغانستان میں امن و مصالحت کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے پاکستانی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے ایک وفد کے ہمراہ کابل کا دورہ کیا تھا جب کہ اس سے قبل افغان وزیر داخلہ اور انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ اسلام آباد میں عہدیداروں سے ملاقات کر کے گئے تھے۔

مبصرین ان رابطوں کو باہمی تعلقات میں کشیدگی کو کم کر کے اعتماد سازی کے لیے ماحول کو سازگار بنانے کی طرف ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہیں۔

پاکستان سرحد پر اپنی جانب باڑ لگا رہا ہے
پاکستان سرحد پر اپنی جانب باڑ لگا رہا ہے

دریں اثناء پاکستان کے وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف نے ایک بار پھر پاک افغان سرحد کی موثر نگرانی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے سرحد پر اپنی جانب باڑ لگائے جانے سے عسکریت پسندوں کی سرحد کے آر پار نقل و حرکت کو روکنے اور دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے 'بلومبرگ' کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے آر پار آزادانہ نقل و حرکت دونوں جانب دہشت گردی کو پنپنے میں مدد دے سکتی ہے۔

خواجہ آصف نے امریکہ پر بھی زور دیا کہ وہ باڑ لگانے کے اس عمل میں معاونت فراہم کرے۔ ان کے بقول پاکستان کی طرف باڑ لگانے کا کام رواں سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG