رسائی کے لنکس

logo-print

ماہرین نے دوما سے نمونے حاصل کر لیے


اقوام متحدہ کی گاڑیوں کے ذریعے تنظیم کے ماہرین کو دمشق سے لے جایا جا رہا ہے

کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی کے لیے قائم ایک بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ ماہرین کی ایک ٹیم نے شام کے علاقے دوما سے کچھ نمونے جمع کیے ہیں جہاں دو ہفتے قبل مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔

آرگنائزیشن فار دی پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز 'او پی سی ڈبلیو' کے مطابق ٹیم کی طرف سے حاصل کیے گئے نمونوں اور دیگر معلومات کے تجزیے کے بعد رپوٹ جاری کی جائے گی۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ وہ "صورتحال کا جائزہ اور آئندہ اقدام بشمول دوما کے ایک اور ممکنہ دورے کے بارے میں غور کرے گی۔"

سکیورٹی سے متعلق متعدد معاملات کی وجہ سے یہ ٹیم دوما میں کئی دنوں تک داخل نہیں ہو سکی تھی اور اس کے ماہرین ہفتہ کو یہاں جا سکے تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ سات اپریل کو ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس کا الزام شام کے صدر بشار الاسد پر عائد کرتے ہیں۔

شام کی حکومت کیمیائی حملوں کے استعمال کے الزام کو مسترد کرتی ہے۔

ادھر روس نے بھی تصدیق کی ہے کہ 'اوپی سی ڈبلیو' کے ماہرین کی ٹیم نے ہفتہ کو دوما کا دورہ کیا۔

امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے خلاف گزشتہ ہفتے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیب پر میزائل داغے تھے۔

دوما اس وقت باغیوں کے زیر قبضہ ہے اور اسے شام کی سرکاری فورسز کی طرف سے کارروائیوں کا سامنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG