رسائی کے لنکس

logo-print

شکاگو کے تاجر کا ممبئى قتلِ عام کی سازش کے الزام سے انکار



شکاگو کے ایک تاجر نے اس الزام کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے کہ اُس نے نومبر 2008 میں ممبئى میں دہشت گردوں کے حملوں کا منصوبہ بنانے میں مدد کی تھی۔

کنیڈا کے شہری اور پاکستانی نژاد تہّور رانا نے پیر کے روز شکاگو میں اس الزام سے بھی انکار کا ہے کہ اُس نے ڈنمارک کے اُس اخبار کے خلاف کسی حملے کی سازش کی تھی، جس نے پیغمبرِ اسلام کے کارٹون شائع کیے تھے۔ اُن کارٹونوں کی اشاعت پرمسلمان ملکوں میں تشدّد آمیز احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔اُس اخبار کے خلاف کوئى حملہ نہیں کیا گیا ۔

رانا اور شکاگو کے ایک اور ساکن اور امریکی شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی پرڈنمارک اور بھارت میں دہشت گردی کے منصوبوں کے لیے مادی مدد فراہم کرنےکا الزام ہے ۔

دونوں پر پاکستان میں قائم لشکر طیبہ کی مدد کرنے کا بھی الزام بھی عائد کیا گیاہے ۔اسی گروپ پر الزام ہے کہ اُس نے بھارت کےکاروباری مرکز ممبئى حملے کیے تھے۔

ہیڈلی پر دسمبر میں الزامات عائد کیے گئے تھے اور اُس نے بھی صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG