رسائی کے لنکس

logo-print

مرغی کا گوشت خوب اچھی طرح پکائیے


ماہرین کا کہنا ہے کہ مرغی کا گوشت پکانے میں بے احتیاطی سے وہ فائدے کی بجائے الٹا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں ایسے جراثیم موجود ہوتے ہیں جو پیٹ کے کئی امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔

ایک زمانے میں مرغی کے گوشت سے تیار کیے ہوئے کھانے امرا کے دسترخوانوں کی زینت بنتے تھے مگر اب یہ ایک عام آدمی کی خوراک کا حصہ بن گئی ہے جس کی وجہ دوسری غذائی اشیا کے مقابلے میں اس کی قیمت کا کم ہونا ہے۔

مرغ بانی کی صنعت کے فروغ اور اس کی تیزی سے افزائش نسل سے دنیا بھر میں انسانی غذا میں پروٹین کی قلت کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔

تاہم غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرغی کا گوشت پکانے میں بے احتیاطی سے وہ فائدے کی بجائے الٹا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں ایسے جراثیم موجود ہوتے ہیں جو پیٹ کے کئی امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔ صرف برطانیہ میں ہی ہر سال مرغی کا گوشت کھانے سے تقریباً تین لاکھ افراد بیمار پڑجاتے ہیں اور ان میں سے 80 سےزیادہ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

برطانیہ میں خوراک کے حفاظتی میعار کی نگرانی سے متعلق ادارے نے کہا ہے کہ ملک میں فروخت کی جانے والی 86 فی صد مرغیوں کے گوشت میں campylobacter نامی جراثیم کی موجودگی کا پتا چلا ہے۔ یہ جراثیم پیٹ کے کئی امراض، مثلاً مڑوڑ ، اسہال اور قے کا باعث بنتا ہے۔

ماہرین کا کہنا کہ مرغی کا گوشت پکاتے وقت جن احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہوتی ہے ان میں سب سے پہلے اسے پکانے سے پہلے خوب اچھی طرح دھوناشامل ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تیز آنچ پر یہ جراثیم ہلاک ہوجاتے ہیں، چنانچہ اسے خوب اچھی طرح پکانا چاہیے۔

نیوزی لینڈ کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرغی کے گوشت کو پکانے سے قبل اسے جراثیم کش محلول سے دھونے سے بھی اس میں موجود جراثیموں کو ہلاک کیا جاسکتا ہے۔

مرغی کے گوشت کو جراثیموں سے پاک کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اسے فریزرمیں رکھا جائے کیونکہ صفر درجہ حرارت پر یہ جراثیم ہلاک ہوجاتے ہیں۔ امریکہ میں مرغی اور دوسرا گوشت ذبحہ خانے سے براہ راست مارکیٹ میں لانے کی اجازت نہیں ہے۔ اور اسے کم ازکم 24 گھنٹے تک سرد خانوں میں رکھنے کے بعد مارکیٹ میں لایا جاتا ہے۔

ترقی پذیر ملکوں میں جہاں حفظان صحت کے انتظامات معیاری نہیں ہیں وہاں مرغی کےگوشت کو خوب اچھی طرح پکانے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG