رسائی کے لنکس

logo-print

اسکرٹ سے متعلق متنازع بیان پر چیف جسٹس کی معذرت


فائل فوٹو

چیف جسٹس نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے بیان کو ایشو بنانے کی کوشش کی گئی حالاں کہ انہوں نے کسی خاص جنس کے لیے بات نہیں کی تھی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے خواتین کے اسکرٹ سے متعلق اپنے متنازع بیان پر معذرت کرلی ہے۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے خواتین کے متعلق اپنے بیان پر معذرت کی اور کہا کہ انہوں نے ایک تقریب میں برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کے قول کا حوالہ دیا تھا جس پر وہ معذرت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا 50 فیصد حصہ ہیں اور عورتوں کی عزت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیان سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے تو وہ اس پر معذرت چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے انا کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور انہیں اپنے بیان پر افسوس ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے بیان کو ایشو بنانے کی کوشش کی گئی حالاں کہ انہوں نے کسی خاص جنس کے لیے بات نہیں کی تھی۔

رواں ماہ کراچی میں جوڈیشل کانفرنس کے دوران چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل سے منسوب ایک مشہور قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں ہمیشہ یہ بتایا گیا ہے کہ تقریر خاتون کے اسکرٹ کی طرح ہونی چاہیے جو نہ اتنی لمبی ہو کہ دلچپسی ہی نہ رہے اور نہ اتنی مختصر کہ مقصد ہی سمجھ میں نہ آئے۔

چیف جسٹس کو اس بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ٹوئٹر پر ‘چیف جسٹس معذرت کریں’ کے عنوان سے ایک ٹرینڈ بھی خاصا مقبول ہوا تھا۔

ویمنز ایکشن فورم کراچی کی طرف سے چیف جسٹس ثاقب نثار کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط میں بھی ان سے معذرت کرنے کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ چیف جسٹس قانونی شعبے اور عدلیہ میں خواتین کے خلاف روز بروز بڑھتے ہوئے صنفی امتیاز اور ان شعبوں میں خواتین کی نمائندگی ضرورت سے کم ہونے کو بھی تسلیم کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG