رسائی کے لنکس

logo-print

خدیجہ صدیقی کیس جسٹس کھوسہ کا بینچ سنے گا


چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے خدیجہ صدیقی کیس کے حوالے سے ملزم شاہ حسین کی بریت کے خلاف کیس میں اپیل سپریم کورٹ کے ایک اور جج جسٹس آصف سعید کھوسہ بینچ کو بھجوادی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سب کچھ کسی وکیل کی بیٹی کے ساتھ ہوتا تو کیا آپ کا رویہ یہی ہوتا؟

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں خدیجہ کیس میں ملزم کی بریت کے خلاف کیس پر سماعت ہوئی۔ مدعیہ طالبہ خدیجہ نے روسٹرم پر آکر عدالت کو بتایا کہ اس کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ انصاف فراہم کیا جائے۔

چیف جسٹس نے خدیجہ کے معاملے پر ہائیکورٹ بار کی قرارداد پر اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دئے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ اب کوئی بیان بازی نہیں ہو گی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملزم شاہ حسین کے والد تنویر حسین سے استفسار کیا کہ عدالت کیخلاف مہم کس طرح چلائی؟

“آپ نے عدالت کے خلاف قرارداد کیسے پاس کرائی؟ اگر کسی وکیل کی بیٹی کے ساتھ ایسا ہوتا تو کیا آپ کا رویہ یہی ہوتا”۔

چیف جسٹس پاکستان کے استفسار پر بتایا گیا کہ خدیجہ صدیقی نے ملزم شاہ حسین کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے جس پر عدالت نے از خود نوٹس نمٹاتے ہوئے خدیجہ صدیقی کی اپیل جسٹس آصف سعید خان کھوسہ پر مشتمل بنچ کو بھجوا دی۔

خدیجہ قانون کی طالبہ ہیں اور اُن پر 3 مئی، 2016 کو اُس وقت چاقو سے حملہ کیا گیا جب وہ اپنی بہن کو سکول سے واپس لا رہی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG