رسائی کے لنکس

رحیم یار خان: بھونگ مندر پر حملے کی ابتدائی رپورٹ جاری، چیف جسٹس کا نوٹس


مندر پر حملے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے علاقے بھونگ شریف میں مندر پر حملے اور توڑ پھوڑ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری پنجاب اور انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کو چھ اگست کو سپریم کورٹ میں طلب کر لیا ہے جہاں اس معاملے پر سماعت ہو گی۔

ادھر پولیس نے واقعے کے خلاف تین مختلف مقدمات درج کر لیے ہیں جن میں سڑک بلاک کرنے، مندر کی توڑ پھوڑ اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی مندر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر مشتعل ہجوم کی جانب سے مندر میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کے واقعے کے بعد تاحال پولیس کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی۔ معاملے کی حساسیت کے باعث پنجاب رینجرز کے دستے اب بھی مندر کے اطراف تعینات ہیں۔

واقعے کی ابتدائی رپورٹ حکام کو ارسال

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حکام کو جمع کرائی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق 24 جولائی کو ایک کم سن ہندو لڑکے نے بھونگ مسجد سے ملحقہ مدرسے میں رفع حاجت کی جس کے خلاف اگلے ہی روز تھانہ بھونگ میں مقدمہ درج کر کے بچے کو گرفتار کر لیا گیا۔

البتہ عدالت نے 28 جولائی کو بچے کو رہا کر دیا جس کے بعد مقامی افراد میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ واقعے کی نزاکت کے پیشِ نظر پولیس نے مندر کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی۔

رپورٹ کے مندرجات کے مطابق رواں ماہ تین اگست کو ایک شخص نے ہندوؤں کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز پوسٹ لگا دی۔ جس کے بعد لوگ بھونگ پولیس تھانے کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئے اور ہندو بچے کے خلاف توہینِ مذہب کی دفعات لگانے پر اصرار کرتے رہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق اِسی اثنا میں شر پسند افراد کا ایک گروہ ایم فائیو موٹر وے پر جمع ہونا شروع ہو گیا اور ہندوؤں کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اِسی اثنا میں دو سو سے اڑھائی سو مشتعل افراد نے بھونگ مندر کی طرف بڑھنا شروع کر دیا اور مندر کی کھڑکیاں اور دروازے توڑ دیے اور مندر میں موجود مورتیوں کی بھی بے حرمتی کی۔

رپورٹ کے مطابق صورتِ حال کے پیشِ نظر ضلع رحیم یار خان کے پولیس سربراہ، ڈپٹی کمشنر اور دیگر حکام موقع پر پہنچے اور مشتعل ہجوم سے مذاکرات کر کے صورتِ حال کو کنٹرول کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بھونگ میں ہندو برادری کے 60 سے 70 خاندان آباد ہیں جن کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تاہم واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس نے کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا۔ افسر کے مطابق پولیس نے محرم کی حساسیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے فی الحال گرفتاری سے اجتناب کیا۔ لیکن بعد میں گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

ہندو برادری کا ردِعمل

ہندو برادری کے مقامی رہنما پیٹر جان بھیل کہتے ہیں کہ واقعے کے بعد صورتِ حال تاحال معمول کی طرف نہیں آئی ہے اور مقامی ہندوؤں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقے میں تاحال پولیس کی نفری اور رینجرز کے دستے تعینات ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹر جان بھیل نے کہا کہ اُنہوں نے اپنے بیوی، بچوں اور دیگر اہلِ خانہ کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا ہے۔

پیٹر جان بھیل کے مطابق پولیس نے واقعے کے بعد کچھ لوگوں کو حراست میں لیا تھا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا۔ اُن کے بقول مشتعل ہجوم نے پولیس اہل کاروں پر بھی حملہ کیا تھا جنہوں نے بمشکل اپنی جان بچائی۔

اُن کے بقول “مندر کو اندر سے تقریباً سارا مسمار کر دیا گیا ہے۔ مورتیاں توڑ دی ہیں، 30 پنکھے توڑ دیے ہیں۔ ایک گاڑی کو توڑ دیا گیا جب ہندوؤں کے گھروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔"

پیٹر جان بھیل کا کہنا تھا کہ ہندو بچہ بھونگ مسجد سے ملحقہ مدرسے میں گیا جہاں ایک مولوی صاحب نے اسے پکڑ لیا اور تھپڑ رسید کیا جس سے بچہ کا پیشاب نکل گیا جس پر لوگوں نے الزام لگایا کہ بچے نے مدرسے میں رفع حاجت کر کے مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔

مقامی پولیس کا مؤقف

رحیم یار خان کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر اسد سرفراز کے مطابق پولیس واقعے کی تفتیش کر رہی ہے اور شرپسند عناصر کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او اسد سرفراز نے کہا کہ بدھ کے واقعے کے بعد صورتِ حال قابو میں ہے۔ لیکن کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس کو الرٹ رکھا گیا ہے۔

اقلیتوں کو پاکستان میں مساوی حقوق حاصل ہیں: طاہر اشرفی

وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر محمد اشرفی نے بھونگ مندر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے بھونگ میں مندر کی توڑ پھوڑ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے برابری کے حقوق ہیں۔ جنہوں نے انتشار پھیلانے کی کوشش کی قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

وزیر اعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے اپنی ٹوئٹ میں واقعے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لے لیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس کیس کی تفتیش کرے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوائے۔

سوشل میڈیا پر مندر پر حملے کی ویڈیو شیئر کرنے والے ایک صارف کپل دیو نے بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کی ایک تقریر کے الفاظ کو دوہراتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا ہم واقعی اپنے مندروں میں جانے میں آزاد ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہندو مندر میں دن دیہاڑے کیا جانے والے حملہ ملاحظہ کیجیے۔

انسانی حقوق کے کارکن عمار علی جان نے کہا ہے کہ ''اس طرح کا رویہ آئین اور اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔" انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG