رسائی کے لنکس

نیپال: کم عمری میں محبت کی شادیوں کا رُجحان


فائل فوٹو

نیپال میں کم عمری میں شادی کا رجحان عام ہورہا ہے۔ نیپال ڈیموگرافک ہیلتھ سروے 2016 کے مطابق 25 سے 49 سال کی تقریباً 50 فی صد لڑکیوں نے 18 سال کی عمر میں ہی شادی کرلی تھی۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق نیپال میں کم عمری میں شادی کرنے پر 50 سال قبل پابندی عائد کی گئی تھی اور شادی کی قانونی عمر 20 سال مقرر ہے۔ لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

کم سن نیپالی لڑکی آشا چرتی کارکی نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ اُن کے گاؤں میں ان سے اور اُن کے ایک دوست سے متعلق افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ اس حوالے سے گھر میں والدین سے جھگڑا بھی ہوا تھا۔ ان کے بقول ایک دن وہ سہیلی کے ساتھ پڑھائی کے بہانے گھر سے نکلیں اور اپنی مرضی سے اپنے دوست سے شادی کر لی۔

کارکی، شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد حاملہ ہو گئی اور صرف 16 سال کی ہونے کے سبب اسے صحت کے مسئلوں سے دوچار ہونا پڑا۔

کارکی کا کہنا ہے کہ میں اپنے والدین سے جھوٹ بول کر گھر سے بھاگی تھی مگر کم عمر ہونے کے باعث میں یہ نہیں سمجھ سکی کہ دراصل میں خود اپنے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہوں۔

نیپالی معاشرے میں زیادہ تر شادیاں والدین کی مرضی سے ہوتی ہیں۔ والدین کی جانب سے بچوں کو غربت سمیت دیگر وجوہات کی بناء پر زبردستی شادی کے لیے مجبور کرنے کی بھی شکایات عام ہیں۔ یہاں محبت کی شادی کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف تنظیمیں بھی قائم ہیں۔

نیپال میں چند سال قبل 'گرلز ناٹ برائیڈز' نامی تنظیم نے ایک سروے کرایا تھا۔ جس میں انکشاف ہوا تھا کہ محبت کی شادی کو فروغ دینے کے لیے نوجوان جوڑوں نے تنظیمیں بنا رکھی ہیں۔ اور یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔

گرلز ناٹ برائیڈز نیپال کے ایک عہدیدار آنند تمنگ نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ کم عمری کی شادیاں حکومت اور ہمارے لیے ایک طرح کا چیلنج بنتی جارہی ہیں۔ ہم والدین کو تو قائل کر سکتے ہیں۔ لیکن نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو کم عمری میں پسند کی شادیاں کرنے سے روکنا بہت مشکل ہے۔

تمنگ کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادیاں چاہے مرضی سے ہوں یا زبردستی دونوں صورتوں میں مسائل جنم لیتے ہیں۔ ان کے بقول شادی کی ذمہ داری کے باعث بہت سے طلبہ تعلیم اُدھوری چھوڑ دیتے ہیں جبکہ گھریلو تشدد کے واقعات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لڑکیاں جب اپنا گھر چھوڑ دیتی ہیں تو ان کے اہل خانہ کا تعاون ختم ہو جاتا ہے۔ کارکی بھی ایسی ہی لڑکیوں میں شامل ہے جسے شادی کے سبب اسکول چھوڑنا پڑا کیوں کہ اسے گھر کے کام کاج اور دیگر ذمہ داریاں نبھانا تھیں۔

نیپال کی حکومت نے 2030 تک کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لیے قومی حکمت عملی تشکیل دی ہے اور اس ضمن میں قوانین بھی بنائے گئے ہیں۔ جس کے تحت بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کم عمری کی شادیوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شادی سے پہلے جنسی تعلق اُستوار ہونے کے بعد تعلق کو جائز کرنے کے لیے بھی بہت سے جوڑے شادی کر لیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG