رسائی کے لنکس

logo-print

بچوں کے حقوق کے سرگرم کارکن اور وکیل انیس جیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس پیش رفت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کا اس اقدام کی مخالفت کرنی چاہیئے تھی۔

تشدد کا شکار بننے والی کم عمر گھریلو ملازمہ طیبہ کے والد نے اس معاملے میں مبینہ طور پر ملوث ایک ضلعی عدالت کے جج اور ان کی اہلیہ کو معاف کر دیا ہے جس کے بعد اسلام آباد کی ایک عدالت نے جج اور ان کی اہلیہ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

تشدد کا شکار بننے والی کم سن طیبہ کی والد کی طرف سے ذیلی عدالت کے جج اور ان کے اہلیہ کو معاف کر دینے کے بعد جمعہ کو عدالت نے ان کی ضمانت منظور کر لی۔

طیبہ ایک مقامی ضلعی عدالت کے جج خرم علی کے گھر پر بطور گھریلو ملازمہ کام کرتی تھی اور مبینہ طور اسے جج کی اہلیہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

تاہم جج اور ان کی اہلیہ اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔

دسمبر کے اواخر میں اس واقعہ کی تفصیلات سب سے پہلے سماجی میڈیا پر آنے کے بعد اسلام آباد کی پولیس نے طیبہ کو جج کے گھر سے برآمد کرنے کے بعد جج اور ان کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

اس واقعہ پر ناصرف انسانی حقوق کی تنظمیوں بلکہ بچوں کے حقوق کے سرگرم کارکنوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی بلکہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو اس معاملے کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی طیبہ کے والد نے جج خرم علی کی اہلیہ کو معاف کرنے سے متعلق ایک بیان حلفی ایک ذیلی عدالت میں جمع کروایا تھا لیکن بعد ازاں عدالت عظمیٰ کے سامنے طیبہ کے والد نے کہا کہ انہوں نے دباؤ کی وجہ سے یہ بیان دیا تھا۔

اس وقت چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس صلح نامے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے واقعات میں عموماً دباؤ ڈال کر صلح کروا دی جاتی ہے اور معاملہ دب جاتا ہے۔

تاہم جمعہ کو عدالت میں دیے گئے ایک تحریری بیان میں طیبہ کے والد نے کہا کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی اور بغیر کسی دباؤ کے جج اور ان کی اہلیہ کو معاف کرتے ہیں۔

بچوں کے حقوق کے سرگرم کارکن اور وکیل انیس جیلانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس پیش رفت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ریاست کو یقیناً اس مقدمہ کی کارروائی پر نظر رکھنی چاہیئے تھی اور بیشک (طیبہ) کے والدین معاف کر بھی دیں پھر بھی ریاست کو اس کی مخالفت کرنی چاہیئے۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک کثیر تعداد میں بچے اور بڑے معاشی مجبوریوں کی وجہ سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

" اس طرح کے لاکھوں بچوں گھروں میں کام کر رہے، جبری مشقت کے تحت پاکستان میں بچے اور بڑے جو کام کر رہے ہیں ان کی مدد کے لیے ابھی تک ہم پاکستان میں کوئی نظام وضع نہیں کر سکیں ہیں۔"

اگرچہ پاکستان میں مشقت کرنے والے بچوں کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی اعدادوشمار موجو د نہیں ہے تاہم بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 10 سے 14 سال کے بچوں کی 13 فیصد تعداد ایسی ہے جو کام کرنے پر مجبور ہیں۔

XS
SM
MD
LG