رسائی کے لنکس

logo-print

خط غربت سے نیچے رہنے والے بچوں کے جنسی استحصال کا زیادہ امکان


فائل فوٹو

وفاقی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کے مطابق پاکستان میں تقریباً ساڑھے چار کروڑ بچے خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے جنسی استحصال اور تشدد کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

عہدیدار نے یہ بات اسلام آباد میں وفاقی محتسب کے زیر اہتمام ایک مشاورتی نشست کے دوران بتائی جس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں کے علاوہ قابل ذکر قانون سازوں نے بھی شرکت کی۔

اس اجلاس میں رواں ماہ کے اوائل میں قصور میں ایک کم سن بچی زینب کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دینے کے واقعے پر بھی غور کیا گیا اور بچوں کو ایسے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے مزید تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

قصور کے اس واقعے کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے بھی ایسے ہی مزید چند واقعات سامنے آئے جس کے بعد ایسے مطالبات میں شدت آئی کہ حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور عملی اقدام کرے۔

وزارت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ گو کہ حکومت نے اس ضمن میں قانون سازی کی ہے لیکن ان پر عملدرآمد ایک چیلنج ہے۔

اجلاس میں شریک نیشنل کمیشن برائے خواتین کی سربراہ خاور ممتاز کا کہنا تھا کہ بچوں سے جنسی زیادتی کے معاملے میں جینیاتی (ڈی این اے) تجزیہ لازمی ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے اخراجات حکومت برداشت کرے نہ کہ متاثرہ خاندان۔

بتایا جاتا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ پر 30 سے 50 ہزار روپے خرچ آتا ہے۔

بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم ساحل کے رکن ممتاز گوہر کہتے ہیں کہ ایسے واقعات میں تفتیش اور پھر عدالتی کارروائی کو سہل اور تیز رفتار بنانے سے بھی خاطر خواہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں اس نوعیت کے بہت سے مقدمات زیر التوا ہیں اور ان پر کارروائی شروع ہوئے کئی سال ہو چکے ہیں اور اسی وجہ سے اکثر لوگ عدالت کے باہر ہی آپس میں معاملات طے کر لیتے ہیں۔

ممتاز گوہر نے کہا کہ ایسی قانون سازی ہونی چاہیے کہ بچوں سے جنسی زیادتی کے مقدمات کو زیادہ سے زیادہ ایک سال میں نمٹایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو مزید تکلیف سے بچایا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG