رسائی کے لنکس

logo-print

چلی زلزلہ: ہلاک ہونےوالوں کی تعداد 720ہوگئی، زندہ بچ جانےوالوں میں غذا کی فراہمی مشکل مسئلہ


ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں تباہ کن سونامی کی لہریں جنم لے سکتی ہیں، جو بحر الکاہل کے ساحلی ملکوں، روس، اور امریکی ریاست ہوائی تک کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔

جنوبی امریکہ کے ملک چلی میں 8.8 کی شدت کے بڑے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 720سے تجاوزکرگئی ہے۔ جب کہ بحر الکاہل کے ساحلی ملکوں میں سونامی کا انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔

ہفتے کو آنے والے اِس شدید زلزلے کےسخت متاثرہ علاقے میں چلی کے اہل کاروں کو قانون کے نفاذ اور کھانے پینے کی اشیا کی تقسیم کے کام میں تکالیف درپیش آرہی ہیں۔

زلزلے کا مرکز چلی کے وسطی شہر کنسیپ سیون سے ایک سو کلومیٹر دور تھا۔ یہ شہر چلی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔

اتوار کو جاپان میں حکام نے کہا ہے کہ چلی میں آنے والے زلزلے سے اٹھنے والی لہریں جاپان کے ایک ساحلی علاقے سے ٹکرائیں ہیں جہاں ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیاگیا ہے اور لوگوں کو ساحلوں کا رخ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

صدر مشل باشالے نے وسطی چلی میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ انھوں نے خبر دی ہے کہ جنوبی مالے کے علاقے میں 85 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جب کہ ملک کے نام زد صدر سباسچین پنیرا نے کہا ہے کہ زلزلے سے ملک بھر کے تعمیراتی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

زلزلے کے بعد کئی بڑے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے، جن میں سے سب سے بڑے کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.9 تھی۔

زلزلے کے ابتدائی جھٹکے نے سڑکیں، عمارتیں اور پل تباہ کر دیے ہیں اور سڑکیں ملبے کا ڈھیر بن کر رہ گئی ہیں۔ دارالحکومت سین تیاگو میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کا نقصان پہنچا ہے جس کے بعد اسے بند کر دیا گیا ہے۔

بہت سے علاقوں میں ٹیلی فون اور بجلی کی لائنیں ٹوٹ گئی ہیں، جس سے مواصلات کے نظام میں خلل پیدا ہو گیا ہے۔ صدر باشالے نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ سفر نہ کریں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں تباہ کن سونامی کی لہریں جنم لے سکتی ہیں، جو بحر الکاہل کے ساحلی ملکوں، روس، اور امریکی ریاست ہوائی تک کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔

جنوبی امریکہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ اگرچہ مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، تاہم ٹوئٹر اور فیس بک جیسی دوسری انٹرنیٹ کی سائٹوں پر زلزلے کا زیادہ اثر نہیں ہوا۔ ان ویب سائٹوں کے ذریعے لوگ اپنے عزیزوں اور دوستوں کی خیریت معلوم کر رہے ہیں۔

امریکی ادارے یو ایس جی ایس کا کہنا ہے کہ آٹھ یا اس سے زیادہ شدت کا زلزلہ عظیم زلزلہ کہلاتا ہے اور اس سے زبردست تباہی پھیل سکتی ہے۔

چلی کی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ 1960ء میں آیا تھا، جس کی شدت 9.5 تھی اور اس سے شدید سونامی پیدا ہوئی تھی جس نے جاپان اور فلپائن سمیت بحر الکاہل کے ساحلی ملکوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔

جنوری میں ہیٹی میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر سات درجے تھی، جب کہ 2005ء میں پاکستان کے شمال میں تباہی پھیلانے والے زلزلے کی شدت 7.6 تھی۔

XS
SM
MD
LG