رسائی کے لنکس

logo-print

زلزلے بعد لوٹ مار، چلے میں فوج تعینات کر دی گئی


چلے کی صدر مشل باچلے نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ کنسیپ شیان شہر میں لاقانونیت اور لوٹ مار پر قابو پا لیا جائے گا۔

منگل کے روز نامہ نگاروں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مجرمانہ افعال کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے فوج کو حکم دیا کہ لاقانونیت کو ختم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدام کیے جائیں۔

چلے میں حکام نے ہفتے کے روز آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد لوٹ مار روکنے کے لیے ملک کے دوسرے بڑے شہر کنسیپ شیان میں دس ہزار فوجی تعینات کر دیے ہیں۔

کنسیپ شیان شہر زلزلے سے بری طرح متاثر ہوا ہے، جس کے بعد سے وہاں پر لاقانونیت پھیل گئی ہے۔ حکومت نے اس پر قابو پانے کے لیے پیر کی شام آٹھ بجے سے لے کر منگل کی دوپہر تک کرفیو میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔

پیر کی رات دیر گئے تک لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا۔ لوگ پانی اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات کی تلاش میں پھرتے رہے۔ بہت سی دکانیں لوٹ لی گئی ہیں اور کچھ کو جلا دیا گیا ہے۔

کنسیب شیان ہفتے کی صبح 8.8 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے مرکز سے قریب ترین شہر تھا۔ اس زلزلے میں اب تک 720 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ملک کا بیشتر حصہ کھنڈر بن کر رہ گیا ہے۔ خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی برادری چلے کی مدد کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن منگل کے روز سین تیاگو کے مختصر دورے پر ہنگامی مواصلاتی آلات لے کر جائیں گی۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ خوراک، پانی اور پناہ گاہوں کے ساتھ ساتھ چلے کو متحرک پلوں، سفری ہسپتالوں اور ڈایالسس کے آلات کے ساتھ ساتھ دوسرے طبی سامان کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG