رسائی کے لنکس

logo-print

چلے: زلزلےمیں ہلاک ہونے والوں کی تعداد795 ہو گئى


وٹ مار اور لاقانونیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا؛ فوج جرائم کی روک تھام کے لیے ” سختی “ سے اقدامات کرے: باچلیت

چلے کی صدر مِشل باچلیت نے کہا ہے کہ اتوار کے اُس تباہ کُن زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر اب 795 ہوگئى ہے، جس میں املاک کو بہت وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا اور جس کے باعث سمندر سے اُٹھنے والی سُونامی کی بلند لہروں نے ساحلی شہروں میں تباہی مچادی۔


صدر باچلیت نے 8.8 شدّت کے زلزلے میں نقصانات کا اندازہ لگاتے ہوئے نئے اعدادو شمار منگل کے روز جاری کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پانچ لاکھ گھروں سمیت 20 لاکھ سے زیادہ عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور اِس مرحلے پر یہ پتا چلانا نا ممکن ہے کہ کس نقصان زدہ عمارت کو دوبارہ تعمیر کیا جاسکتا ہےاور کن عمارتوں کو مسمار کردینا چاہئیے۔

صدر نے دورے پر گئى ہوئى امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا کہ تعمیرِ نو پر کتنی رقم خرچ ہوگی۔ لیکن چلے کئى ملکوں سے امداد وصول کرے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ ہر طریقے سے چلے کی مدد کرے گا۔ وہ امریکہ کی جانب سے ابتدائى امداد کے طور اپنے ہمراہ سیٹلائیٹ ٹیلی فون لےکر گئى ہیں۔ اس لیے کہ باچلیت کی حکومت نے ٹیلی مواصلات کے اس سامان کی درخواست کی تھی۔

منگل کے روز ہی چِلے کی لیڈر نے نامہ نگاروں سے کہا ہے لوٹ مار اور لاقانونیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے فوجیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری ” سختی “ کے ساتھ اقدامات کریں۔

XS
SM
MD
LG