رسائی کے لنکس

logo-print

زلزلے کے بعد بحالی میں کئى برس لگ سکتے ہیں: چلے کی صدر


کون سیپسی اون زلزلے میں سب سے بُری طرح متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔

چلے کی صدر مِشل باچلیت نے کہا ہے کہ اتوار کے اُس تباہ کُن زلزلے کے بعد جس میں 800 سے زیادہ ہلاک ہوئے اور املاک کو بہت وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، ملک کی تعمیرِ نو میں کم سے کم تین یا چار سال صرف ہوسکتے ہیں۔

صدر نے جمعرات کے روز ایک مقامی ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چلے کو معیشت کی بحالی کے لیےعالمی بینک اورقرض فراہم کرنے والے دوسرے بین الاقوامی اداروں سے قرض لینے کی ضرورت پڑے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ تعمیرات پر مجموعی طورپر تقریباً 30 ارب ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔

چلے کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے بہت سی یقین دہانیاں اور وعدے موصول ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مُون جمعے کے روزسان تیاگو میں صدر باچلیت اورنومتخب صدرسبستئین پِنیرا سے ملاقات کرنے والے ہیں، جو 11 مارچ کو اپنے عہدے کے حلف اُٹھائیں گے۔

توقع ہے کہ مسٹر بان ساحلی شہر کون سیپسی اون بھی جائیں گے، جو 8.8 شدت کے زلزلے میں سب سے بُری طرح متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔

اسی دوران امدادی ٹیمیں کون سیپسی اون میں ابھی تک گری ہوئی عمارتوں کے ملبوں میں کھوجی کتّوں کی مدد سے زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کررہی ہیں۔ یہ شہر زلزلے کے مرکز کے سب سے زیادہ قریب تھا۔

XS
SM
MD
LG