رسائی کے لنکس

چین، افغانستان اور پاکستان کے مذاکرات کا دوسرا دور


مواصلات، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، انسانی وسائل کی بحالی و ترقی کے علاوہ عوام کے درمیان رابطوں کے شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

چین، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ’پریکٹیکل کوآپریشن ڈائیلاگ‘ یعنی عملی تعاون سے متعلق مذاکرات کا دوسرا دور رواں ہفتے کابل میں ہوا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کی شب جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ مذاکرات 26 اور 27 ستمبر کو ہوئے جس کی صدارت افغانستان کی وزارتِ خزانہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے ترقی مصطفٰی آریا نے کی۔

پاکستان کی طرف سے منصور احمد خان اور چینی وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار ژاؤکین نے اپنے اپنے ممالک کے وفود کی نمائندگی کی۔

مذاکرات میں تینوں فریقوں نے اُن مخصوص شعبوں کی نشاندہی کی جن میں عملی طور پر تعاون کیا جا سکتا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ متعلقہ شعبوں میں تعاون کو بڑھایا جائے گا۔

اجلاس میں تینوں فریقوں کا کہنا تھا کہ سہ فریقی عملی تعاون کا مقصد افغانستان میں تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی ہے۔

اس کے علاوہ تینوں ملکوں نے ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کے علاوہ ریجنل اکنامک کانفرنس آن افغانستان کے فریم ورک کے تحت تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

سہ فریقی اجلاس میں پاکستان اور چین کی اعانت کو افغانستان کی ترجیحات کے مطابق بنانے کے لیے رابطوں اور تعاون کو بڑھانے کے علاوہ سہ فریقی منصوبوں کے لیے سکیورٹی کی فراہمی پر بھی بات ہوئی۔

مواصلات، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، انسانی وسائل کی بحالی و ترقی کے علاوہ عوام کے درمیان رابطوں کے شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

تیسرا سہ فریقی اجلاس اسلام آباد میں ہو گا جس کے لیے سفارتی رابطوں کے ذریعے حتمی تاریخوں کو تعین کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ چین، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں قیام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے بھی کوششیں کرتا رہا ہے۔

اسی سلسلے میں چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے پاکستان اور افغانستان کے دورے بھی کیے تھے۔

چین اس چار فریقی گروپ میں بھی شامل ہے جو افغانستان میں مصالحتی عمل کے لیے 2015ء کے اواخر میں قائم دیا گیا تھا۔ اس گروپ میں چین کے علاوہ، امریکہ، افغانستان اور پاکستان شامل ہیں۔

اس گروپ کے متعدد اجلاسوں کے باوجود میں افغانستان میں قیامِ امن کے حصول کے لیے ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی تھی جس کے بعد بظاہر یہ غیر فعال ہو گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG