رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ نے ٹیکس لگائے تو اس سے تجارتي معاہدے ختم کر دیں گے، چین


ٹیکساس کے ایک پلانٹ میں سٹیل کے کوائل رکھے ہیں۔ اپریل 2018

چین امریکہ کو انتباہ کر رہا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے محصولات بڑھانے اور دوسرے تجارتي اقدامات کیے تو دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور کاروباروں کے معاہدے منسوخ ہوجائیں گے۔

یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر تجارت ولبر راس اور چین کے نائب وزیر اعظم لیو ہی کے درمیان اتوار کے روز بیجنگ میں مذاكرات کا ایک نیا دور ختم ہوا۔ ان مذاکرات کا مقصد تجارتی تنازع کو حل کرنا ہے ، جس میں بیجنگ نے کہا ہے کہ وہ اپنے حق میں تجارتی فاضل کم کرنے کے لیے امریکہ سے زیادہ مصنوعات خریدے گا ۔

پچھلے سال امریکہ کو چین کے ساتھ تجارت میں 375 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔

دونوں اعلیٰ عہدے داروں کے درمیان مذاکرات کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلان جاری نہیں ہوا اور نہ ہی دونوں فریقوں نے اس حوالے سے تفصیلات جاری کیں ہیں۔

مئی کے وسط میں واشنگٹن میں امریکہ اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات میں چین کے وفد کے وعدہ کیا تھا کہ وہ مزید امریکی اشیا خریدیں گے۔

امریکی وزیر تجارت کے ساتھ وفد میں زراعت، خزانے اور تجارت کے عہدے دار شامل تھے۔

جب کہ چینی کے نائب وزیر اعظم لیو کی معاونت چین کے مرکزی بینک کے گورنر اور وزیر تجارت نے کی۔

صدر ٹرمپ اس سے پہلے یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ چینی مصنوعات پر 150 ارب ڈالر کے ٹیکس لگا دیں گے ۔ جب کہ چین نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ وہ بھی جواباً ایسے ہی اقدامات کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG