رسائی کے لنکس

logo-print

مبینہ حملہ آور جہاد میں حصہ لینا چاہتے تھے: چینی حکام


یوننانکمیونسٹ پارٹی کے سربراہ چن گوانگرنگ کا کہنا تھا کہ آٹھ مشتبہ افراد سمندر پار عالمی جہاد میں حصہ لینا چاہتے تھے۔

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ گزشتہ ہفتے جنوب مغربی شہر کے ایک ریلوے اسٹیشن پر چاقوؤں سے مسلح حملہ آور جہاد میں حصہ لینے کے لیے ملک سے باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

بیجنگ نے اس حملے کی ذمہ داری شمال مغربی خطے سنکیانگ کے عسکریت پسندوں پر عائد کی تھی۔ اس واقعے میں عسکریت پسندوں نے چاقوؤں کے وار کرکے کم ازکم 29 افراد کو ہلاک اور 140 کو زخمی کر دیا تھا۔

سنکیانگ کی ایغور نسل کی مسلم آبادی ایک عرصے سے ریاست پر ایذا رسانی کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ لیکن یہ علاقہ جائے وقوع یعنی صوبہ یوننان کے شہر کُنمنگ سے تقریباً ڈیڑھ ہزار کلومیٹر دور ہے۔

بدھ کو یوننان کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ چن گوانگرنگ کا کہنا تھا کہ آٹھ مشتبہ افراد سمندر پار عالمی جہاد میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن وہ یوننان یا جنوبی صوبہ گوانگڈونگ سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

چن نے بتایا کہ مشتبہ افراد پر جب یہ انکشاف ہوا کہ وہ علاقہ نہیں چھوڑ سکتے تو انھوں نے مین لینڈ چائنا میں حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم انھوں نے اس مبینہ منصوبے اور مقام کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

مسڑ چن کا یہ بیان خبر رساں ادارے ژنہوا میں جاری ہوا جب کہ دیگر سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی اس کی خبر دی۔ بعض ذرائع ابلاغ نے بعد ازاں یہ خبر اپنی ویب سائٹس سے ہٹا دی۔ اس خبر پر کسی اور اعلیٰ عہدیدار کی طرف سے بھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

گزشتہ ہفتے ہونے والے ہلاکت خیز حملے میں پولیس نے چار مشتبہ حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا جب کہ آٹھ اب بھی اس کی حراست میں ہیں۔ لیکن تاحال حکومت نے ان کی شناخت اور ان کے ایغور آبادی سے منسلک ہونے سے متعلق شواہد کے بارے میں بہت تھوڑی معلومات فراہم کی ہیں۔
XS
SM
MD
LG