رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا کے چین پر جاسوسي اور سیاسی مداخلت کے الزامات


آسٹریلیا کے وزیر اعظم مالکم ٹرن بل۔ فائل فوٹو

ایک معمول کی بریفنگ میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا کہ آسٹریلوی وزیر اعظم کے تبصرے ناقابل قبول ہیں۔

آسٹریلیا اور اس کے سب سے بڑے تجارتي شراکت دار چین کے درمیان تعلقات جاسوسي اور سیاسی مداخلت کے الزامات کی وجہ سے کشیدگی اختیار کر رہے ہیں ۔

مینڈرین میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم مالکم ٹرن بل نے چین پر آسٹریلیا کی اندرونی سیاست میں مبینہ دخل اندازی پر تنقید کرتے ہوئے غیر معمولی طور پر سخت زبان استعمال کی۔

وزیر اعظم مالکم نے زور دے کر کہا ہے کہ آسٹریلیا کی اندرونی سیاست میں انتہائی اعلیٰ سطح پر غیر ملکی مداخلت ہوئی ہے ۔ ان کی حکومت نے حزب اختلاف کی لیبر پارٹی کے ایک سینیٹر سیم دستیاری کی مثال کا حوالہ دیا ہے جن کے چین کے ایک دولت مند تاجر کے ساتھ قریبی تعلقات سخت جانچ پڑتال کی زد میں آ چکے ہیں ۔

یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ سیم دستیاری نے اس شخص کو اپنے ایک قانونی بل کی ادائیگی کرنے کی اجازت دی اور وہ جنوبی چین کے سمندر کے مسئلے پر آسٹریلیا کی لیبر پارٹی کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے بیجنگ کی سرکاری پالیسی کی حمایت کر چکے ہیں ۔

کینبرا میں ایک سینیر سرکاری وزیر نے سینیٹر دستیاری پر ایک دوہرا ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا۔

گذشتہ ماہ پارلیمنٹ کے لیے ایک بیان میں ایرانی نژاد دستاری نے زور دے کر کہا تھا کہ وہ ایک محب وطن آسٹریلوی شہری ہیں، لیکن غلطیوں سے مبرا نہیں ہیں۔ ٹرن بل نے یہ زور دینے کے لیے غیر معمولی حد تک سخت زبان استعمال کی ہے کہ ان کا ملک چینیوں سے خوف زدہ نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جدید چین 1949 میں ان الفاظ کے ساتھ قائم ہوا تھا۔ چینی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ یہ اقتدار اعلیٰ کا یک اعلامیہ تھا ۔ یہ فخر کی ایک توثیق تھی۔ اور ہم کھڑے ہیں اس لیے ہم کہتے ہیں کہ، آسٹریلیا کے لوگو کھڑے ہو جاؤ۔

آسٹریلیا سیاسی جماعتوں پر غیر ملکی عطیات کی پابندی کے نئے قوانین متعارف کرا چکا ہے ۔ کسی دوسرے ملک کی طرف سے آسٹریلیا کی جمہوریت میں دخل اندازی کرنے والوں کو جیل بھی ہو سکتی ہے۔

چین نے کہا ہے کہ اس نے ٹرن بل کی جانب سے آسٹریلوی أمور میں غیر ملکی مداخلت کے بیانات پر ایک سرکاری شکایت درج کر لی ہے ۔

ایک معمول کی بریفنگ میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا کہ آسٹریلوی وزیر اعظم کے تبصرے ناقابل قبول ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آسٹریلوی لیڈر کے متعلقہ تبصروں پر حیران ہیں ۔ ایسے تبصرے آسٹریلیا کے کچھ بے أصول اور چین کے خلاف تعصب رکھنے والے میڈیا کو غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے لیے مواد فراہم کر سکتے ہیں ۔ ان سے چین اور آسٹریلیا کے تعلقات کی فضا زہر آلود ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بیجنگ کا حتمی مقصد اس چیز کو یقینی بنانا ہے کہ آسٹریلیا کا جھکاؤ چین کی طرف بڑھ جائے اور وہ خود کو امریکہ سے دور کر لے ۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ٹرن بل کے سخت الفاظ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ کینبیرا چین کے خلاف کھڑا ہونے کے لیے تیار ہے۔

چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتي ساتھی ہے ۔ جب کہ آسڑیلیا کے امریکہ کے ساتھ قریبی فوجی تعلقات 1950 کی دہائی سے چلے آ رہے ہیں ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG