رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان بھارت باہمی اختلافات بات چیت سے حل کریں: چین


چین نے جنوبی ایشیا میں جاری حالیہ کشیدہ صورتِ حال کو معمول پر لانے کے لیے پاکستان اور بھارت کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اپنے باہمی اختلافات بات چیت سے حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے یہ بات بیجنگ میں چین پاکستان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے بعد اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ہمراہ منگل کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہی۔

چین کے اعلیٰ سفارت کار کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک حملے کے بعد جنوبی ایشیا کے دونوں حریف جوہری ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔

منگل کو پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی وزیرِ خارجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کو پلوامہ واقعے کے بعد خطے کی صورتِ حال اور اسے معمول پر لانے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ پاکستان نے اس صورتِ حال میں تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ملک ہمیشہ (بھارت کے ساتھ) بات چیت کے ذریعے تمام دیرینہ معاملات حل کرنے کے لیے تیار رہا ہے۔

اس موقع پر چین کے وزیرِ خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی سے کمی کے متعلق پاکستان کی "تعمیری کوششوں" کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک پر امن اور مستحکم جنوبی ایشیا خطے کے ممالک اور دنیا کے مفاد میں ہے۔

چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے بیان پر تاحال بھارت کا ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی طرف سے تاحال ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ بھارت کشیدگی میں کمی کی پاکستانی کوششوں سے مطمئن ہے۔

رواں ہفتے بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے پاکستان میں موجود مبینہ دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائیوں کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت پلوامہ خود کش حملے کو بھولا نہیں ہے اور دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف مزید اقدامات کرے گا۔

بھارت کے زیرِ اتنطام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارت کی سیکورٹی فورسز کے ایک قافلے پر گزشتہ ماہ ہونے والے ایک حملے کی ذمہ داری شدت پسند گروپ جیشِ محمد نے قبول کی تھی۔ اس حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔

واقعے کے بعد بھارت نے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوششیں بھی تیز کر دی تھیں۔ لیکن یہ کوششیں اس وقت ناکام ہو گئی تھیں جب چین نے مسعود اظہر کا نام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کو تکنیکی بنیاد پر روک دیا تھا۔

بھارت نے چین کے اس اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ لیکن چین کا کہنا ہے کہ اس نے اس معاملے کو التوا میں اس لیے ڈالا ہے تاکہ اس بارے میں فریقین سے مزید مشاورت کی جا سکے۔

پاکستان نے اگرچہ حال ہی مں ملک بھر میں کالعدم تنظیموں اور ان سے وابستہ بعض افراد کی خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے لیکن اب بھی بھارت اور بعض مغربی ممالک پاکستان پر مزید مؤثر اقدامات کے لیے زور ڈال رہے ہیں۔

منگل کو پریس کانفرنس کے دوران چین کے وزیرِ خارجہ نے ایک بار پھر پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو سراہا۔

چینی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو پاکستان کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے لیے حالیہ برسوں میں کیے جانے والے اقدامات کو صحیح تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG