رسائی کے لنکس

logo-print

چین: فیکٹری میں دھماکے سے چھ افراد زخمی


حالیہ برسوں میں پلاسٹک اور فائبر کی تیاری میں استعمال ہونے والے پیرازائلیں کیمیکل تیار کرنے والے پلانٹس کے محفوظ ہونے کے حوالے سے تحفظات پر چین میں کئی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ اس کیمیکل سے آنکھ، ناک اور گلے میں سوزش ہو سکتی ہے۔

حکام کے مطابق جنوبی چین میں ایک پلانٹ میں دھماکے کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں آگ بجھانے کا عملہ آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس پلانٹ میں زہریلا کیمیکل پیرازائلیں تیار کیا جاتا ہے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فیوجیئن صوبے کے ژانگ زاؤ شہر میں اس پلانٹ میں جلتے ہوئے ہائڈرو کاربن سیال کے تین ٹینکوں میں سے کوئی بھی لیک نہیں ہوا اور ماحولیاتی آلودگی کی کوئی علامات نہیں ملیں۔ بیس ماہ میں کسی چینی فیکٹری میں ہونے والا یہ دوسرا دھماکا ہے۔

حالیہ برسوں میں پلاسٹک اور فائبر کی تیاری میں استعمال ہونے والے پیرازائلیں کیمیکل تیار کرنے والے پلانٹس کے محفوظ ہونے کے حوالے سے تحفظات پر چین میں کئی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ اس کیمیکل سے آنکھ، ناک اور گلے میں سوزش ہو سکتی ہے۔

ژانگ زاؤ کے ڈپٹی میئر نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک شخص جائے وقوع پر زخمی ہوا ہے جبکہ پانچ افراد شیشے ٹوٹنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ سرکاری نیوز ایجنسی ژنہوا نے بتایا ہے کہ دھماکوں کی آوازیں اور شدت 50 کلومیٹر دور تک محسوس کی گئی۔

ڈپٹی میئر کے مطابق حکام نے آگ بجھانے کے لیے 117 ٹرک اور عملے کے 829 ارکان کو تعینات کیا اور قریبی علاقوں کو رہائشیوں سے خالی کرا لیا۔

تعمیر ہونے سے پہلے ہی اس پلانٹ کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔ پہلے اسے گنجان آباد شہر زیامن میں تعمیر کیا جانا تھا مگر 2007ء میں مقامی آبادی کی طرف مظاہروں کے بعد اسے کم گنجان آباد شہر ژانگ زاؤ منتقل کر دیا گیا تھا۔

مقامی آبادی کو اس پلانٹ کی تعمیر سے پیدا ہونے والے صحت کے ممکنہ خطرات کی وجہ سے تحفظات تھے۔

XS
SM
MD
LG