رسائی کے لنکس

چین: ایک خاندان ایک بچہ کےقانون پر نظر ثانی کی اپیل


چین: ایک خاندان ایک بچہ کےقانون پر نظر ثانی کی اپیل
چین: ایک خاندان ایک بچہ کےقانون پر نظر ثانی کی اپیل

چین کے سب سے گنجان آباد صوبے کے عہدے داروں نے کہاہے کہ انہوں نے بیجنگ سے30 سال پرانے فی خاندان ایک بچہ کے قانون پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔

صوبے گوانگ ڈونگ کے آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق محکمے کے عہدے داروں نے کہاہے کہ انہوں نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایک پائلٹ پروگرام کے تحت ان خاندانوں کو، جن میں شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک اپنے گھر کی واحد اولاد ہیں، دوسرا بچہ پیدا کرنے کی اجازت دے۔

اس وقت چین کے قانون کے تحت صرف وہ خاندان دوسرا بچہ پیدا کرسکتے ہیں جس میں شوہر اور بیوی دونوں اپنے گھر کی واحد اولاد تھے۔ اس قانون میں بعض نسلی گروپوں اور کاشت کاروں کو، اگر ان کی پہلی اولاد لڑکی ہو تو دوسرا بچہ پیدا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

گوانگ ڈونگ میں بڑے پیمانے پر صنعتیں قائم ہیں اور 10 کروڑ افراد پر مشتمل یہ چین کا سب سے گنجان آباد صوبہ ہے۔ تاہم اب وہاں حکمرانوں کو فی خاندان ایک بچہ کی پالیسی کے باعث بزرگوں کی دیکھ بھال اور معاشرے میں مردوں اور عورتوں کے تناسب میں بگاڑ پیدا ہونے سے کئی طرح کے مسائل پیش آرہے ہیں، کیونکہ اکثر گھرانے یہ پتا چلنے کے بعد کہ ان کے ہاں لڑکی پیدا ہوگی ، اسقاط حمل کو ترجیج دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG