رسائی کے لنکس

logo-print

چین وائرس سے متاثرہ ملکوں کی مدد میں پیش پیش، کیا ورلڈ آرڈر تبدیل ہو رہا ہے؟


ایتھنز کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اہل کار چین سے آنے والے طبی امدادی سامان کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس سامان میں پانچ لاکھ ماسک بھی شامل ہیں۔ 21 مارچ 2020

چین کرونا وائرس سے متاثرہ ضرورت مند ملکوں کے لئے بڑے پیمانے پر امداد بھیج رہا ہے جس سے چین کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ساتھ ہی یہ جھوٹا الزام بھی پھیلایا جا رہا ہے کہ امریکہ نے اس وبا کا آغاز کیا اور خود اپنے ملک میں اس وبا کی سنگینی کو چھپائے رکھا۔

وائس آف امریکہ کے نامہ نگار برائن پیڈین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ چین دوسرے ملکوں کو یہ امداد ایک ایسے وقت میں دے رہا ہے جب امریکہ اندرون ملک اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش میں مصروف ہے اور وہ دوسرے ملکوں کو طبی امداد بھرپور طریقے سے فراہم نہیں کر پا رہا۔

چین کی امداد سے بھرے ہوئے جہاز اسپین، اٹلی، ملایشیا، فلپائن اور یہاں تک کہ امریکہ میں بھی پہنچ رہے ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چین کی یہ کوشش دنیا کے بعض حصوں میں اس کی مقبولیت میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ چین کی یہ امداد اس کی بیرون ملک پراپیگنڈہ مہم کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد اس تنقید کو غیر مؤثر بنانا یا روکنا ہے کہ اس وائرس کا اتنے بڑے پیمانے پر دنیا بھر میں پھیلنا، چین کی آمرانہ حکومت کی جانب سے ہفتوں تک اس مرض کے پھیلنے کی خبروں کو چھپائے رکھنے کا نتیجہ ہے۔ بلکہ اس نے ان ڈاکٹروں اور حکومت مخالفین کو سزائیں بھی دیں جنہوں نے اس مرض کے پھیلاؤ کے بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کی۔

سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈین رینڈل کا کہنا ہے کہ چین آگ لگانے والا ملک ہے جو چولا بدل کر اب اس آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہا ہے جو اس نے شروع کی تھی۔

تاہم شکاگو یونیورسٹی کے ڈاکٹر ظفر بخاری کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں چین کو ایک یہ برتری حاصل ہے کہ اس کے لگ بھگ دو کھرب ڈالر ملک سے باہر پڑے ہیں، جو اس نے بیرونی تجارت سے کمائے ہیں۔ اور اب وہ اس رقم کو امداد کی مد میں خرچ کر سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس سب کے باوجود اسے وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے جن کی وہ توقع کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ بھی اپنی مشکلات کے باوجود دوسروں کو امداد فراہم کر رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس وبا سے نکلنے کے بعد امریکی معیشت تین چوتھائی تک بحال ہو جائے گی۔

یہ درست ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں اس مہلک مرض سے لڑنے کے لئے کروڑوں ڈالر کی امداد فراہم کر رہا ہے۔ لیکن وہائٹ ہاؤس ایسے اشارات بھی دے رہا ہے کہ ملکی ضروریات کی ترجیحات کے پیش نظر کچھ حفاظتی آلات اور سامان بیرونی ملکوں کو نہیں بھیجے جانے چاہئیں۔

بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین کی کرونا وائرس کے سلسلے میں دوسرے ملکوں کی مدد اور امریکہ کی اندرون ملک حالات پر ارتکاز توجہ بعض اعتبار سے بدلتے ہوئے ورلڈ آرڈر کی عکاسی کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG