رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ: کرونا مریضوں کی تعداد 185 ہوگئی، فرائض بجا نہ لانے والے 44 ڈاکٹر معطل


بلوچستان میں ڈاکٹر قیصر پانے زئی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

بلوچستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 185 ہوگئی ہے، جن میں 12 ڈاکٹر بھی شامل ہیں، جب کہ 122 افراد کے خون کے نمونوں کا نتیجہ آنا باقی ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان، لیاقت شاہوانی نے ہفتے کی شام کرونا کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے، اخباری نمائندوں کو بتایا کہ صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مکمل لاک ڈاﺅن ہے؛ جب کہ کوئٹہ شہر میں دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت غریب افراد میں نقدی اور امدادی سامان تقسیم کر رہی ہے؛ جس دوران تقریباً پانچ لاکھ خاندانوں کی مدد کی جائیگی۔

ادھر، دالبندین میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، حکومت بلوچستان کے فوکل پرسن برائے تدارک کرونا وائرس، میر عمیر محمد حسنی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے سرحدی شہر تفتان میں ڈیوٹی دینے سے انکار کرنے والے 44 ڈاکٹروں کو معطل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے احکامات نہ ماننے والے 12 ڈاکٹروں کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے؛ اور تحقیقات مکمل ہونے پر فرائض بجا نہ لانے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔

کوئٹہ میں 'ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن' کے ترجمان نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ صوبے میں کرونا وائرس کے شکار مریضوں کا علاج کرنے والے 12 ڈاکٹر خود وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اب تک ضروری آلات فراہم نہیں کیے گئے، جس بنا پر سول اسپتال سنڈیمن اور بی ایم سی اسپتال کے ایم ایس کے دفاتر کو ہفتے کے روز تالے لگائے گئے ہیں۔

ینگ ڈاکٹرز کے ترجمان، ڈاکٹر رحیم بابر نے مزید کہا کہ ''اگر صوبائی حکومت ضروری آلات فراہم نہیں کر سکتی تو ڈاکٹروں کو ٹرانسفر بھی نہ کرے''۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی معطلی کے خلاف ڈاکٹر ہڑتال نہیں کر رہے، جب کہ مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رہے گا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان، لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹس اور دیگر ضروری آلات فراہم کر دیے گئے ہیں؛ جب کہ مزید حفاظتی آلات کی فراہمی کے لیے صوبائی حکام نے وفاقی حکومت سے رابطہ کر رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG