رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا سے متعلق امریکہ کی درخواست التوا کا شکار


امریکہ کے وزیر خزانہ اسٹیون منچن شمالی کوریا سے متعلق تعزیرات سے متعلق وائٹ ہاؤس میں بریفنگ دینے سے پہلے (فائل فوٹو)

چین نے شمالی کوریا پر عائد بین الاقوامی تعزیرات کی خلاف ورزی کرنے پر 33 بحری جہازوں،27 شپنگ کمپنیوں اور تائیوان کے ایک شہری کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی امریکہ کی درخواست کو التوا میں ڈال دیا ہے۔

امریکہ نے یہ درخواست ایک ہفتے قبل کی تھی جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ "اس کا مقصد شمالی کوریا کے تیل کے حصول اور کوئلے کی فروخت کی غیر قانونی سمندری تجارت کو روکنا ہے۔"

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ درخواست ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب امریکہ کی طرف سے شمالی کوریا پر یک طرفہ طور پر بڑی تعزیرات عائد کی گئی تھیں تاکہ پیانگ یانگ پر اس کے جوہری اور میزائل پروگرام کو روکنے کے لیے دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔

چین نے امریکہ کی درخواست کو التوا میں ڈالنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی ہے لیکن ایسا اس وقت کیا جاتا ہے جب سلامتی کونسل کے کسی رکن کو مزید معلومات مطلوب ہوں اور بعض اوقات مستقل طور پر بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے اقدام کو روک دیا جاتا ہے۔ تاہم التوا میں ڈالنے کے اقدام کو کسی بھی وقت واپس لیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل کی شمالی کوریا کی تعزیرات سے متعلق کمیٹی اتفاق رائے کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔

اگر امریکہ کی درخواست پر اتفاق رائے ہوتا ہے تو امریکہ کی طرف سے بیان کردہ 33 بحری جہازوں جن میں 19 شمالی کوریا کے ہیں، پر عالمی سطح پر بندرگاہوں میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ دیگر 14 جہاز جو شمالی کوریا کے نہیں، کے بارے میں متعلقہ ملکوں کو کہا جائے گا کہ وہ ان کی رجسٹریشن منسوخ کر دیں، جبکہ 27 کمپنیوں اور ایک شخص کے اثاثے منجمد کر دیئے جائیں گے۔

سلامتی کونسل پیانگ یانگ کے جوہری اور میزائل پروگرام کی فنڈنگ روکنے کے لیے 2006ء سے اتفاق رائے سے شمالی کوریا پر تعزیرات میں اضافہ کرتی چلی آ رہی ہے۔ ان میں کوئلہ، خام لوہا، سیسہ، ٹیکسٹائل اور سمندری خوراک برآمد کرنے پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے پر بھی پابندی شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG