رسائی کے لنکس

چینی وزیر اعظم نے کہا کہ بیجنگ یوان کی شرح مبادلہ کو طے کرنے کے لئے مارکیٹ سے متعلق ہونے والی اصلاحات کی بنیاد پر ایک طریقہ کار وضع کرے گا۔

چین کے وزیر اعظم نے بدھ کو کہا ہے ان کا ملک اپنی برآمدات میں اضافے کے لئے یوان کی شرح مبادلہ کو کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

وزیر اعظم لی کیچیانگ کا بیان چین کے مرکزی بینک کی طرف سے چین کی کرنسی کی قدر کو مستحکم کرنے کے لئے بھاری اخراجات صرف کیے جانے کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ تواتر کے ساتھ اس بات کو سامنے لانے کے عزم کا اعادہ کر چکے ہیں کہ چین غیر مناسب طریقہ سے اپنی کرنسی کi شرح مبادلہ میں ردو بدل کرتا رہتا ہے جو ایک ایسا اقدام ہے جو تجارتی پابندیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

وزیر اعظم لی نے سالانہ پارلیمانی اجلاس کے بعد منعقد ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ "اپنی برآمدات کو بڑھانے کے لئے چین کا اپنی کرنسی کی شرح مبادلہ کو کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔"

انہون نے کہا کہ شرح مبادلہ " عمومی طور پر مستحکم رہے گی۔"

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران یوان کی قدر کو روک کے رکھا اور حال ہی میں مارکیٹ کے دباؤ کی وجہ سے یہ کرنسی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہو رہی ہے اور مرکزی بینک کی مداخلت کے بغیر ہی اس میں کمی ہو سکتی ہے۔

ان خدشات کے بعد کہ یوان کی شرح قدر میں کمی کی وجہ سے سرمایہ کار اپنی رقم ملک سے نکال سکتے ہیں، چین کا سینٹرل بنک ڈالر کے مقابلے میں یوان کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لئے ہر ماہ اربوں ڈالر صرف کر رہا ہے۔

سینٹرل بنک کے غیر ملکی زر مبادلہ میں جون 2014 ء کی 3 کھرب 99 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں ایک کھرب ڈالر کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

یوان کو قدر میں کمی کا اس وقت مزید سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر امریکہ کا مرکزی بنک ' فیڈرل ریزرو' شرح سود میں متوقع اضافے کے پروگرام پر عمل درآمد کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے سرمایہ کار امریکی بانڈز اور دیگر مالیاتی اثاثے حاصل کرنے کی طرف پیش رفت کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے چین سے سرمائے کا مزید انخلا ہو سکتا ہے۔

چینی وزیر اعظم نے کہا کہ بیجنگ یوان کی شرح مبادلہ کو طے کرنے کے لئے مارکیٹ سے متعلق ہونے والی اصلاحات کی بنیاد پر ایک طریقہ کار وضع کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG