رسائی کے لنکس

logo-print

نابینا چینی سرگرم کارکن کی امریکہ میں سیاسی پناہ کی اپیل


چین کے حکومت مخالف سرگرم نابینا شخص چن گوانگ چنگ کی جانب سے امریکہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی اپیل کے بعد، ان کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں ۔ بیجنگ میں وائس آف امریکہ کے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک روز قبل چین میں رہنے کے عزائم کے ساتھ امریکی سفارت خانے سے رخصت ہونے والا سرگرم کارکن مقامی اسپتال میں زیر علاج ہے۔

امریکی سفارت خانہ چھوڑنے کے چند ہی گھنٹوں کے بعد چن گوانگ چنگ کی کہانی کے مختلف پہلو سامنے آنا شروع ہوگئے تھے۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ جمعرات کو امریکہ اور چین کے درمیان اعلی ٰ سطحی مذاکرات جاہی ہیں ، یہ اہم سوال ہر چیز پر اپنا چھایا ہوا ہے کہ آیا چن اپنے ملک چین میں رہنا چاہتے ہیں یا امریکہ میں جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

چین کے لیے امریکی سفیر گیری لوک نے جمعرات کو دارالحکومت میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک روز پہلے جب امریکی عہدے داروں نے چن کو سفارت خانے سے بیجنگ کے اسپتال میں پہنچایا تھا تو اس وقت اس کی سوچ بڑی واضح تھی۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا وہ جانا چاہتے ہیں ؟ کیا وہ جانے کے لیے تیار ہیں ؟ اور ہم نے کئی منٹ تک اس کے جواب کا انتظار کیا اور اس کے بعد اچانک انہوں نے بہت سے لوگوں کے سامنے بڑے جوشیلے انداز میں یہ کہا کہ مجھے جانا چاہیے۔

امریکی سفیر نے اس واقعہ پر صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے پر زوردیتے ہوئے اس معاہدے کا دفاع کیا جس میں اطلاعات کے مطابق چن کو چین میں رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔

تاہم چن امریکی سفیر کی نیوزکانفرنس سے کئی گھنٹے قبل اپنے بیان سے پھر گیا اور ان کے وکیل نے غیر ملکی صحافیوں کو ٹیلی فون پر بتایا کہ وہ ان کا مؤکل اپنے اور اپنے خاندان کے لیے امریکہ میں سیاسی پناہ کا خواہش مند ہے۔

امریکی عہدے داروں کا کہناہے کہ وہ چن کی خواہشات کو بہتر طورپر جاننے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ ان کے مقاصد کے حصول میں مدد دینے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر جیروم کوہن کہتے ہیں کہ اس ہفتے کے شروع میں چن سمیت تمام فریقوں کی جانب سے مذاکرات میں مدد کے لیے ان سے درخواست کی گئی تھی اور اس کے نتیجے میں بقول ان کے ایک خلاف معمول معاہدہ طے پا گیاتھا۔

چن کی عمر 40 سال ہے اور وہ ایک وکیل ہیں ۔ وہ چین کے خاندانی منصوبہ بندی کے حکام کی شکایت پر چار سال جیل کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں ۔

ستمبر2010ء میں اپنی رہائی کے بعد سے انہیں غیر قانونی طورپر اپنے گھر میں نظر بند رکھا جارہاتھا اور سادہ لباس میں ملبوس غنڈوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

چن گذشتہ ماہ اپنے گھر سے فرار ہوکر امریکی سفارت خانے میں پہنچنے کے بعد خبروں کی شہ سرخیوں کا موضوع بن گئے تھے۔ بدھ کو وہ سفارت خانے سے نکلنے کے بعد بیجنگ کے ایک اسپتال میں چلے گئے جہاں ان کے زخمی پاؤں کا علاج کیا جارہاہے اور خاندان کے افراد ان کے ساتھ ہیں۔

XS
SM
MD
LG