رسائی کے لنکس

logo-print

چین میں گزشتہ نصف صدی کی بدترین خشک سالی


چین میں گزشتہ نصف صدی کی بدترین خشک سالی

وسطی چین میں دریائے Yangtze کے ساحل کے آس پاس کے شہروں اور صوبوں کو انتہائی شدید خشک سالی کے اثرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ پچاس برس سے زیادہ عرصے کی بد ترین خشک سالی ہے ۔ تجزیہ کار کہتےہیں کہ اس سے نہ صرف آب و ہوا میں تبدیلی کے اثرات کی نشاندہی ہوتی ہے بلکہ چین میں پانی کی مسلسل قلت کے مسئلے اور اقتصادی ترقی کی وجہ سے توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ضرورت بھی نمایاں ہوتی ہے۔

پویانگ جھیل چین میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے ۔ چین میں خشک سالی کتنا بڑا مسئلہ بن گئی ہے، یہ جھیل اس کی صرف ایک مثال ہے ۔ صوبہ جیانگژی میں واقع یہ جھیل اپنے عام سائز سے سکڑ کر نصف رہ گئی ہے۔ پانی کی قلت سے ماہی گیری اور کاشتکاری پر بہت برا اثر پڑا ہے ۔

پانی کی سطح گر جانے کی وجہ سے، دریائے Yangtze کے کچھ حصوں میں جہازرانی ممکن نہیں رہی۔ سامان بردار جہاز، دریا کے ساتھ ساتھ واقع فیکٹریوں کو سامان نہیں پہنچا سکتے، اور نہ وہاں سے تیار شدہ مال اور زرعی اشیا باہر بھیجی جا سکتی ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس دریا کو ہر سال تقریباً 100 ارب ٹن سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔

واشنگٹن میں ورلڈ ریسورس انسٹی ٹیوٹ کے پراجیکٹ کو آرڈینیٹر کہتے ہیں کہ خشک سالی سے بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔’’دریائے Yangtze کے طاس میں بہت زیادہ پن بجلی پیدا کی جاتی رہی ہے ۔ لیکن بعض اندازوں کے مطابق، خشک سالی کی وجہ سے تھری جارجز ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی کی پیداوار 20 فیصد کم ہو گئی ہے ۔ جو کمپنیاں بجلی کے اس ذریعے پر انحصار کرتی تھیں ، ان کے کام پر بُر ااثر پڑا ہے اور وہ اپنا بجلی کا خرچ کم کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔‘‘

بجلی کی پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں پر خشک سالی کے جو اثرات پڑے ہیں ان سے مسئلے کی پیچیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ کمبال کہتے ہیں’’جب آپ کو پانی اور بجلی کی راشننگ کرنی پڑ جائے، جو آج کل دریائے Yangtze کے طاس میں ہو رہا ہے، تو پھر چین میں حکومتوں اور کمپنیوں کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ کون سا شعبہ اور کون سا استعمال سب سے زیادہ اہم اور ضروری ہے، اور پانی کے محدود وسائل کو کس طرح استعمال کیا جائے۔‘‘

صحافیوں اور سائنسدانوں کا بین الاقوامی کنسورشیم سرکل آف بلیودنیا کے پانی کے وسائل کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس کنسورشیم کے سینیئر ایڈیٹر کیتھ شنائڈر کہتے ہیں کہ چین میں پانی کی قلت کا مسئلہ روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے۔’’چین کے شماریات کے قومی بیورو کے مطابق، چین میں 2000 سے پانی مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ 2000 سے ا ب تک وہاں ہر سال 35 ارب کیوبک میٹر یعنی کل 350 ارب کیوبک میٹر پانی کم ہو چکا ہے ۔ پانی کی یہ مقدار بہت زیادہ ہے۔ اتنا پانی آٹھ مہینو ں میں دریائے Yangtze سے بہہ کر شنگھائی سے گذرتا ہے۔‘‘

چین کے ماہرینِ موسمیات کہتے ہیں کہ آب و ہوا کی تبدیلی سے ملک میں پانی کی رسد پر تباہ کن اثرات پڑے ہیں۔ ایک اور وجہ دریائے Yangtze پر تعمیر کیے جانے والے بند ہیں۔ شنائڈر کہتے ہیں کہ تھری جارجز ڈیم سے اوپر کی طرف، مزید 100 بند ، تعمیر کے مختلف مرحلوں میں ہیں جن میں پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔’’ان جھیلوں کو بھرنے سے دشواری پیدا ہوتی ہے اور مدد بھی ملتی ہے کیوں کہ جو پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے اسے حسبِ ضرورت دریا میں چھوڑا جا سکتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پن بجلی کے ان بندوں سے بجلی پیدا کرنے کے لیے ان جھیلوں کو بھرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔‘‘

پانی کا استعمال محدود کرنے کے لیے ، چین بڑی سرگرمی سے متبادل ذرائع سے توانائی کی پیداوار کو وسعت دے رہا ہے، اور بڑے شہروں میں پانی کو دوبارہ استعمال کرنے کے طریقوں پر تحقیق کر رہا ہے ۔ چین کی پھیلتی ہوئی معیشت کے لیئے توانائی اور مختلف قسم کے وسائل کی ضرورت میں، پانی ایک اہم جزو ہے۔ مثلاً ، چین کی اقتصادی ترقی میں کوئلے کی پیداوار بہت اہم ہے اور ملک میں 23 فیصد پانی کوئلے کی پیداوار میں استعمال ہو جاتا ہے ۔ شنائڈر کہتے ہیں کہ چین کو ہر شے کی بے تحاشا ضرورت ہے۔ انہیں زیادہ پانی، زیادہ توانائی، زیادہ کوئلہ ، غرض ہر چیز کی ضرورت ہے ۔ ملک کے سب سے بڑے اور طویل ترین دریا، Yangtze میں پانی کی کمی سے ان تمام چیزوں کی قلت ہو گئی ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق، خشک سالی سے وسطی چین کے سات صوبوں میں دس لاکھ ہیکٹرز سے زیادہ زرعی زمین خشک سالی سے متاثر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، مقامی حکومتوں کے عہدے داروں نے دریا کے آس پاس کے علاقوں میں بادلوں سے بارش برسانے کے لیئے فضا میں 4,000 سے زیادہ راکٹ چھوڑے ہیں ۔ تا ہم، کم از کم اگلے مہینے تک اب بھی بہت کم بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے ۔

XS
SM
MD
LG