رسائی کے لنکس

logo-print

چین نے فضائی حدود کا دائرہ بڑھا دیا، جاپان کا احتجاج


وزارتِ دفاع نے ایسٹ چائنہ سی کے لیے فضائی حدود کے دفاع سے متعلق نقشہ جاری کیا ہے جس میں جاپان کے زیرِ انتظام اُن جزائر کو بھی شامل کیا گیا ہے جن کا چین بھی دعویدار ہے۔

چین کی وزارتِ دفاع نے ایسٹ چائنہ سی کے لیے فضائی حدود کے دفاع سے متعلق نقشہ جاری کیا ہے جس میں جاپان کے زیر انتظام اُن جزائر کو بھی شامل کیا گیا ہے جن کا چین بھی دعویدار ہے۔

وزارت نے اپنی ویب سائٹ پر ہفتہ کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ نئے قوانین کے تحت ان فضائی حدود میں داخل ہونے والے طیاروں کو چینی حکام کو مطلع کرنا ہو گا، اور اگر اُنھوں نے اپنی شناخت ظاہر نا کی اور بیجنگ کی ہدایات پر عمل درآمد نا کیا تو ان کے خلاف عسکری نوعیت کی ہنگامی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

بیان کے مطابق نئے قوانین کا اطلاق ہفتہ سے شروع ہو چکا ہے۔

جاپان نے چین کے اس اقدام پر احتجاج کیا ہے اور اس کے وزارت خارجہ کے عہدیدار جونیچی اہارا نے جاپان میں قائم مقام چینی سفیر ہان زیشیانگ کو فون کیا اور اس نئی فضائی حدود کو ’’ قطعی ناقبول‘‘ قرار دیا۔

عہدیدار نے چین کو جزائر کے معاملے پر کشیدگی بڑھانے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

جاپان نے رواں ماہ ہی اپنے لڑاکا طیاروں کو اُس وقت ایسٹ چائنہ سی کی طرف روانہ کیا تھا جب اس کے بقول بغیر ہوا باز کے ایک طیارے کی جاپان کی جانب پرواز کی نشاندہی ہوئی۔

جاپان میں سینکاکو اور چین میں ڈائے اویو کے نام سے جانے جاتے والے یہ جزائر غیر آباد ہیں، مگر ان کے ارد گرد کا علاقہ ماہی گیری اور معدنی ذخائر سے مالا مال ہے۔

جاپان نے 19 ویں صدی کے اواخر میں ان جزائر کا انتظام سنبھالا تھا۔

چین نے 1971ء میں ان جزائر اور ان کے گرد و نواح میں سمندری حدود پر اپنی ملکیت ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ قدیم نقشے اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یہ علاقے صدیوں سے چین کی سر زمین کا حصہ ہیں۔
XS
SM
MD
LG