رسائی کے لنکس

logo-print

ویزے میں عدم توسیع، امریکی صحافی چین چھوڑنے پر مجبور


گزشتہ تیرہ مہینوں میں اخبار کے یہ دوسرے نامہ نگار ہیں جنہیں ویزا کے حصول میں ناکامی کے بعد ملک چھوڑنا پڑا۔

چین نے نیویارک ٹائمز کے ایک نامہ نگار کے ویزے میں توسیع نہ کرتے ہوئے انھیں ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے۔

مبصرین کی رائے میں اس اقدام کی وجہ اخبار میں چینی سرکار ی حکام کی نجی دولت کے بارے میں خبروں کی اشاعت ہو سکتی ہے۔

اخبار کے چین میں معروف نامہ نگار آسٹن رمزی نے سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر ملک چھوڑنے سے پہلے کئی پیغامات تحریر کیے کہ وہ ملک سے جانے پر بہت اداس ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ پھر چین واپس آئیں گے۔

گزشتہ تیرہ مہینوں میں اخبار کے یہ دوسرے نامہ نگار ہیں جنہیں ویزا کے حصول میں ناکامی کے بعد ملک چھوڑنا پڑا۔

اخبار نے 2012 میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں وزیراعظم ون جیاباؤ کے خاندان کے افراد کے بارے میں مبینہ طور پر بہت زیادہ دولت کے رکھنے کی تفصیل دے گئی تھی۔

بیجنگ میں حکام نے اس پر شدید ردعمل کے طور پر نیویارک ٹائمز کی ویب سائیٹ کو بلاک کرتے ہوئے اخبار پر ’’مخفی عزائم‘‘ رکھنے کا الزام عائد کیا۔

ٹائمز کے مطابق چینی حکام نے اخبار کے بہت سے دوسرے نمائندوں کو بھی ویزوں کا اجرا روک دیا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس ہفتے ایک بیان میں اس تاثر کو مسترد کیا کہ رمزی کو زبردستی ملک بدر کیا گیا۔ ان کے کہنا تھا کہ حکام صرف ملکی قوانین کی پاسداری کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ رمزی نے گزشتہ سال ٹائمز چھوڑنے کےبعد ویزا کے حصول کے لیے جو درخواست دی وہ قوائد و ضوابط کے مطابق نہ تھی۔

دوسری طرف نیویارک ٹائمز نے کہا ہے کہ رمزی کی ویزا کے تجدید کی درخواست گزشتہ سال جون میں دی گئی تھی لیکن دسمبر تک جب ان کے ویزے کی مدت ختم ہو رہی تھی، اس بارے میں کسی قسم کے سقم سے متعلق نہیں بتا یا گیا۔

اگرچہ حکام نے ویزے میں ایک ماہ کی توسیع کی لیکن اس دوران بھی ان کی ویزا درخواست پر کو ئی کارروا ئی نہ کی گئی اور ان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

چین میں غیر ملکی صحافیوں کی تنظیم نے ایک بیا ن میں کہا کہ انہیں نہایت افسوس ہے کہ رمزی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

’’اس پر ہم ایک ہی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ حکام نیو یارک ٹائمز کو ون جیاباؤ اور ان کے خاندان کے افراد کے بارے میں اخبار میں شائع ہونی والی خبروں کی سزا دینا چاہتے ہیں۔‘‘

نیویارک ٹائمز کے نمائندے ایڈورڈ وانگ نے ’’ٹوئٹر‘‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ چین صحافیوں کو ویزوں سے انکار اور عالمی ویب سائیٹ پر پابندی عائد کرکے خبروں کی اشاعت پر اثر انداز ہونے کی ایک ناکام کوشش کر رہا ہے۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے گزشتہ سال چین کے دورے کے دوران ملک کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ مغربی میڈیا کے خلاف سخت اقدامات کے مسئلے پر بات کی تھی۔ اس کے بعد ویزا کے حصول کے لیے دی گئی صحافیوں کی درجنوں درخواستوں پر پیش رفت ہوئی ہے۔
XS
SM
MD
LG