رسائی کے لنکس

چین مسعود اظہر پر پابندی کی درخواست کو ’'پھر موخر کر سکتا ہے‘'


مولانا مسعود اظہر

سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے چین اس درخواست کی تکنیکی بنیادوں پر مخالفت کرتا آیا ہے

بھارت کی طرف سے پاکستان میں موجود کالعدم شدت پسند تنظیم ’جیش محمد‘ کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی بین الاقوامی فہرست میں شامل کروانے کا معاملہ چین کی مخالفت کے باعث تاحال التوا کا شکار چلا آ رہا ہے اور اب ایسے اشارے ملے ہیں کہ بیجنگ ایک مرتبہ پھر اس بابت اپنے موقف کا اعادہ کرے گا۔

بھارت اپنے ہاں دہشت گردی کے مختلف واقعات بشمول گزشتہ سال پٹھانکوٹ فضائی اڈے پر حملے کا الزام جیش محمد پر عائد کرتا ہے اور اس بنا پر اس نے دہشت گردی کے معاملات سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی میں مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔

سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے چین اس درخواست کی تکنیکی بنیادوں پر مخالفت کرتا آیا ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کے ایک ترجمان گنگ شوانگ سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا چین مسعود اظہر پر پابندی کی درخواست پر اپنے اعتراض کو دہرائے گا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت (کمیٹی کے) ارکان کا اس معاملے پر اختلاف ہے اور چین اس بارے میں متعلقہ فریقین سے رابطے اور تعاون کے لیے تیار ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چین بارہا اپنے مؤقف پر بات کر چکا ہے اور وہ مقصدیت اور انصاف کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے۔

چین، پاکستان کا پڑوسی اور دیرینہ دوست ملک ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ بینجگ، اسلام آباد کی خواہش پر اس درخواست پر عملدرآمد کو موخر کرتا آرہا ہے۔

بین الاقوامی امور کے سینیئر تجزیہ کار، پروفیسر حسن عسکری نے بدھ کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان، بھارت کی طرف سے ڈالے جانے والے دباؤ کا مقابلہ چین کو ساتھ ملا کر کرنا چاہتا ہے اور یہ معاملہ اسی صورت میں حل ہو سکتا ہے جب اسلام آباد اور نئی دہلی آپس میں بات چیت کا سلسلہ شروع کریں۔

اُن کے الفاظ میں، "مقصد مسعود اظہر کو بچانا نہیں ہے۔۔۔لیکن چونکہ بھارت، پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانا چاہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے تو اس لیے یہ صورتحال پیدا ہو رہی ہے، اگر بھارت مذاکرات شروع کر دے اور دہشت گردی اور دیگر معاملات پر بات چیت شروع کر دے تو میرا خیال ہے کہ پاکستان اور پھر چین بھی اس کی مخالفت چھوڑ دے گا۔"

پٹھانکوٹ فضائی اڈے پر حملے کے بعد پاکستان نے بھارت کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر اپنے ہاں تحقیقات کر کے یہ کہا تھا کہ مسعود اظہر کے اس میں ملوث ہونے کے کوئی قابلِ عمل شواہد موجود نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG