رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور بھارت دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کریں: چین


فائل فوٹو

چینی سفارت کار کہنا تھا کہ یہ دونوں ملکوں کا مفاد اپنے عوام کی بھلائی  کے پیش نظر اقتصادی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے میں ہے ، بجائے اس کے کہ وہ  اپنے وسائل روایتی اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر صرف کر دیں۔

پاکستان میں چینی سفارت خانے کےڈپٹی چیف نے یہ تسلیم کیا کہ ان کا ملک بھارت پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے اور ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے وونوں ملک مل کر علاقائی دہشت گردی کے خلاف جنگ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے تعلقات ایک نئی کم تر سطح پر ہیں۔ چین بھارت کے حوالے سے یہ کوشش کر ر ہا ہے کہ وہ اسے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کہے ۔ یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔

چینی سفارت کار کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دونوں ملکوں کا مفاد اپنے عوام کی بھلائی کے پیش نظر اقتصادی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے میں ہے ، بجائے اس کے کہ وہ اپنے وسائل روایتی اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر صرف کر دیں۔

چین کی افغانستان کی ترقی میں بھارت سے شراکت داری

چینی سفارت کار نے ان خدشات کو بھی دور کرنے کی کوشش کی جس کا تعلق افغانستان میں بھارت کے ساتھ ترقیاتی مںصوبوں میں اشتراک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مل کر افغانستان میں مشترکہ معاشی منصوبے کا تعین اور اس پر عمل درآمد کا حالیہ فیصلہ چین کی اس خارجہ پالیسی کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد علاقائی تناؤ کم کرنا اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہ پاکستان، بھارت کو افغانستان میں کوئی کردار دیے جانے کے سلسلے میں بہت حساس ہے۔ اس لیے ہم خود کو بہت چھوٹے منصوبوں تک محدود رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسے سرکاری ملازموں کی تربیت وغیرہ۔ یہ بہت معمولی نوعیت کے اقدام ہیں، جس پر پاکستان کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

پاکستان یہ الزام عائد کرتا ہے کہ نئی دہلی اپنے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے، بالخصوص افغان سیکیورٹی انتظامیہ سے اپنے تعلقات کو سرحد پار دہشت گرد حملوں میں مدد کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

افغان اور بھارتی عہدے دار دونوں ہی اس إلزام کی ترديد کرتے ہیں۔

سی پیک کا پاکستانی حکومت پر کوئی بوجھ نہیں

چین نے کہا ہے کہ سی پیک کے منصوبے چینی یا پاکستانی سرمایہ کار یا گروپ زیادہ تر چینی بینکوں سے قرض لے کر تعمیر کر رہے ہیں۔

پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف لی جیان زہو نے اپنی نیوزکانفرنس میں گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان میں اربوں ڈالر کی بے مثال سرمایہ کاری سے منسلک ان خدشات اور الزامات کو دور کرنے کی کوشش کی، جن میں کہا گیا ہے کہ اس سے پاکستان چینی قرضوں کے جال میں پھنس جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کل منصوبے میں سے صرف چھ ارب ڈالر پاکستان کو نرم شرائط کے قرضے کے طور پر دیے گئے ہیں جس پر سود کی شرح 2 فی صد ہے اور وہ 20 سال میں ادا ہو گا۔ چین نے سی پیک کے تحت اب تک پاکستان کو محض چھ ارب ڈالر قرضہ دیا ہے اور جو لوگ اس رقم کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں وہ جھوٹ اور پراپیگینڈا ہے۔

چینی سفارت کار کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت چین پاکستان کو 19 ارب ڈالر فراہم کر چکا ہے جو سڑکوں، توانائی کے منصوبوں اور خصوصي اقتصادی زونز کی تعمیر کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اور اس سے 11 ہزار میگا واٹ بجلی پاکستان کے نیشنل گرڈ سسٹم میں داخل ہو چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے تحت 43 میں 22 منصوبوں یا تو مکمل ہو چکے ہیں، یا اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سی پیک منصوبوں کا مقصد زمین سے گھرے چین کے مغربی حصے کو گوادر کی بندرگاہ سے ملانا ہے۔ جس سے چین کو ایک مختصر اور محفوظ راستے کے ذریعے بحیرہ عرب کے پانیوں تک رسائی حاصل ہو جائے گی اور وہ اپنی بین الاقوامی تجارت کو مزید ترقی دے سکے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG